• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 604934

    عنوان:

    عورت کو دیکھنے پر شرم گاہ سے جو پانی نکلتاہے اس کا حکم

    سوال:

    میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں جب کسی عورت کو دیکھتا ہوں تو عضو تناسل کے منہ پر الجھن محسوس ہوتی ہے اور کچھ تری نکل آتی ہے لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ منی ہے یا کوئی اور رطوبت ہے تو کیا میں صرف استنجا اور وضو کر کے نماز پڑھ سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 604934

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:822-259T/sn=11/1442

     ”مذی “ایک شفاف مادہ ہوتا ہے، اور اس کے نکلنے کے بعد بالعموم عضو میں فتور نہیں آتا ؛ بلکہ شہوت بڑھتی ہے اور منی کا مادہ گاڑھا اور غیر شفاف ؛ بلکہ کسی قدر گدلا ہوتا ہے اور اچھل کر نکلتا ہے، اس کے بعد عضو میں فتور آجاتا ہے، بہرحال آپ غور کرلیں، اگر اول الذکر نوعیت کا مادہ صورت مسئولہ میں نکلتا ہو (اور غالب امکان یہی ہے) تب تو آپ محض استنجا اور وضو کرکے نماز پڑھ سکتے ہیں، اگر ثانی الذکر نوعیت کا مادہ ہو تو پھر غسل کرنا ضروری ہوگا ۔

    وہو ماء أبیض رقیق یخرج عند شہوة لا بشہوة ولا دفق ولا یعقبہ فتور وربما لا یحس بخروجہ، وہو أغلب فی النساء من الرجال....وہو ماء أبیض کدر ثخین یشبہ المنی فی الثخانة ویخالفہ فی الکدورة ولا رائحة لہ ویخرج عقیب البول إذا کانت الطبیعة مستمسکة وعند حمل شیء ثقیل ویخرج قطرة أو قطرتین ونحوہما وأجمع العلماء أنہ لا یجب الغسل بخروج المذی والودی کذا فی شرح المہذب.وإذا لم یجب بہما الغسل وجب بہما الوضوء (البحر الرائق شرح کنز الدقائق ومنحة الخالق وتکملة الطوری 1/ 115، ط: زکریا، دیوبند)............ومنی الرجل خاثر أبیض رائحتہ کرائحة الطلع فیہ لزوجة ینکسر الذکر عند خروجہ،(الفتاوی الہندیة 1/ 60،61،ط: زکریا)(وفرض) الغسل (عند) خروج (منی) من العضو إلخ (الدر المختار وحاشیة ابن عابدین (رد المحتار) 1/ 296، مطبوعة:مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند، الہند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند