• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 59221

    عنوان: عورت حیض ، مباشرت اورڈیلوری ( ولادت) کے بعد کیسے غسل کرے گی؟

    سوال: عورت حیض ، مباشرت اورڈیلوری ( ولادت) کے بعد کیسے غسل کرے گی؟

    جواب نمبر: 59221

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 739-586/D=7/1436-U

    غسل کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً نیت حاضر کرکے بسم اللہ پڑھ کر دونوں ہاتھ گٹوں تک دھوئے پھر استنجاء کرکے شرمگاہ اور بدن کے جس حصہ میں نجاست لگی ہو اسے دھوئے، پھر مکمل وضو کرے۔ وضو کرتے وقت کلی کرنے اور ناک میں پانی پہنچانے میں خاص اہتمام کرے، پھر داہنے کاندھے تین مرتبہ پھر بائیں کاندھے پر تین مرتبہ اس کے بعد سر پر تین مرتبہ پانی ڈالے، پانی ڈالتے وقت تمام اعضاء کو رگڑکر دھوئے، ور اگر کسی عورت کی چوٹی پہلے سے بندھی ہوئی ہو پھر غسل کی حاجت ہوگئی تو اس پر چوٹی کھولنا لازم نہیں ہے بلکہ بالوں کی جڑ تک پانی پہنچانا کافی ہے لیکن اگر پہلے سے بال کھلے ہوئے ہوں تو اب تمام لٹکا ہوئے بالوں کا دھونا بھی ضروری ہے، غسل تنہائی میں کرے، قبلہ رخ ہوکر غسل نہ کرے اور ضرورت زائد پانی نہ بہائے، واضح رہے کہ مباشرت کے بعد، حیض کا خون بند ہونے کے بعد غسل فرض ہوتا ہے، اسی طرح ولادت کے بعد جو خون آتا ہے جسے نفاس کہتے ہیں اس کے بند ہوجانے کے بعد غسل فرض ہوتا ہے البتہ خون آنے کے دوران اگر صفائی ستھرائی کے لیے غسل کرنا چاہے تو کرسکتی ہے، لیکن غسل فرض حیض ونفاس کا خون بند ہونے کے بعد ہی ہوتا ہے اور اس غسل کا پورا طریقہ اوپر لکھ دیا گیا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند