• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 57742

    عنوان: اگر مذی کی مقدار ایک درہم سے کم ہو،توکپڑے اور بدن کو نہانا ضروری ہے ؟

    سوال: خواب کے دوران کبھی کبھی ہم سے مذی نکل جاتی ہے ، جب ہم صبح کے وقت نیندسے اٹھ جاتے ہیں تو ہمیں پتہ لگ جاتاہے کہ یہ مذی ہے ، اب ہمیں اس صورت میں مندرجہ ذیل سوالات ہمارے ذہن میں اجاتے ہیں۔ (۱)۔اگر مذی کی مقدار ایک درہم سے کم ہو،توکپڑے اور بدن کو نہانا ضروری ہے ؟ (۲)۔اگر مذی کی مقدار ایک درہم سے زیادہ ہو،لیکن آپ کو اس طرح معلوم ہوا کہ یہ ایک درہم سے کم ہے تو اس صورت میں کیا حکم ہے ؟ (۳)۔اگر بے شک مذی کی مقدار ایک درہم سے کم ہیں ،لیکن دوسرے دن آپ کو دوبارہ مذی محسوس ہوااُسی کپڑوں پرجوکہ دوبارہ لگ گیا ہو اور اس دفعہ بھی ایک درہم سے کم ہے اور آپ نے پہلے ہی اس کو دھویا نہ ہو،تواس صورت میں کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 57742

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 359-60/D=4/1436-U پہلے آپ کو منی ومذی کی تعیین ان دونوں کی تعریف کی روشنی میں کرنا ہوگی، منی کی تعریف یہ ہے کہ منی وہ سفید گاڑھا پانی جس سے استقرار حمل ہوتا ہو جو دفق وشہوت کے ساتھ نکلے جس کے نکلنے کے بعد شہوت ختم ہوجائے۔ اور مذہی کہتے ہیں اس لس دار پانی کو جو بیوی سے دل لگی کرتے وقت یا جماع کا خیال کرتے وقت یا جماع کا ارادہ کرتے وقت بلا شہوت وبلا دفق کے نکلے اور اس کے نکلنے سے شہوت ختم نہیں ہوتی، اب اگر مذکورہ بالا تعریف سے یقین ہوجائے کہ یہ منی ہے، یا منی ومذی ہونے میں شک ہو تو غسل جنابت واجب ہے، چاہے خواب یا د ہو یا نہ ہو اور اگر مذی ہونے کا یقین ہو مگر خواب یاد ہے تو بھی غسل جنابت واجب ہے اوراگر مذی ہونے کا یقین ہو ارو خواب یاد نہ ہو تو غسل جنابت واجب نہیں اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے و فی الشامیة: فیجب الغسل اتفاقا في سبع صور منہا: وہي ما إذا علم أنہ مذي أو شک في الأولین (المني والمذي) ․․․ مع تذکر الاحتلام فیہا أو علم أنہ مني مطلقا․․․․ ولا یجب اتفاقا فیما إذا علم أنہ مذي ․․․ مع عدم تذکر الاحتلام․․․ ویجب عندہما فیما إذا شک في الأولین (مع عدم تذکر الاحتلام) (۱/۳۰۱، ط: زکریا) (۲) اگر مذی ایک درہم سے کم بدن یاکپڑے میں لگ جائے اس کے ہوتے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ ہے اس لیے اس کو دھولیں وفي الدر المختار: وعفا الشارع عن قدر درہم وإن کرہ تحریمًا فیجب غسلہ وما دونہ تنزیہًا․ (شامي: ۱/۵۲۱)(۲) اور اگر مذی کی مقدار ایک درہم سے زیادہ ہو تو اس کے ہوتے ہوئے نماز فاسد ہے اور ایک درہم سے کم ہونے کے شبہ کا اعتبار نہ ہوگا۔ (۳) نماز پڑھتے وقت اگر نجاست کی مقدار ایک درہم سے زیادہ ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی چاہے نجاست تھوڑی تھوڑی مختلف اوقات میں لگی ہو، یا نماز سے پہلے قدر درہم سے کم لگی تھی لیکن نماز کے وقت قدر درہم سے زیادہ جگہ پر پھیل گئی ہو قال الشامي: لو أصاب ثوبہ دہن نجس أقل من قدر الدرہم ثم انبسط وقت الصلاة فزاد علی الدرہم قیل یمنع وبہ أخذ الأکثرون․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند