• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 55560

    عنوان: فرج داخل کی رطوبت صاحبین کے نزدیک نجس ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نجس نہیں، نجس نہیں ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک تو اس پر کیا دلیل ہے؟

    سوال: فرج داخل کی رطوبت صاحبین کے نزدیک نجس ہے اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک نجس نہیں، نجس نہیں ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک تو اس پر کیا دلیل ہے؟

    جواب نمبر: 55560

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 66-66/Sn=11/1435-U امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرجِ داخل کی رطوبت کو بھی، فرجِ خارج اور بدن کے دیگر اعضاء کی رطوبت کی طرح پسینہ (عرق) مانتے ہیں؛ اس لیے بدن کے دیگراجزاء کی رطوبت جس طرح پاک ہے اسی طرح ”فرجِ داخل“ کی رطوبت بھی ان کے نزدیک پاک ہے، شامی (۱/۵۱۵ ط: زکریا) میں ہے: أولج فنزع فأنزل لم یطہر إلا بغسلہ لتلوثہ بالنجس انتہی: أي برطوبة الفرج، فیکون مفرّعًاعلی قولہا بنجاستہا، أما عندہ فہي طاہرة کسائر رطوبات البدن اھ، مزید تفصیل کے لیے شامی: ۱/۵۰۵ زکریا، اور امداد الفتاوی صفحہ ۱۰۷ تا ۱۲۰ کا مطالعہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند