• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 55153

    عنوان: اگر کسی شخص کا وضو بار بار ٹوٹ جاتاہے ریح نکلنے کی وجہ سے اور کافی علاج کے بعد بھی اس کے پیٹ میں کوئی بیماری نہیں

    سوال: اگر کسی شخص کا وضو بار بار ٹوٹ جاتاہے ریح نکلنے کی وجہ سے اور کافی علاج کے بعد بھی اس کے پیٹ میں کوئی بیماری نہیں ہے تو اس کی نماز کیسے ہوگی؟وضو پانچ منٹ سے زیادہ نہیں رکتا ہے۔ا گر شریعت میں کوئی گنجائش ہو تو بتائیں تاکہ ایک بار وضو سے اس کی ایک وقت کی نماز ادا ہوجائے وضو ٹوٹنے کے باوجود ۔

    جواب نمبر: 55153

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1319-1340/N=11/1435-U اگر سوال میں مذکور شخص کا وضو کم ازکم پانچ منٹ رک جاتا ہے جس میں یہ شخص عذر سے خالی ہوکر وضو کرکے مختصر قرأت واذکار کے ساتھ فرض نماز ادا کرسکتا ہے تو یہ شخص شرعاً معذور نہیں ہے، اس کو چاہیے کہ پانچ منٹ کے وقفہ ہی میں وضو کرکے نماز پڑھ لیا کرے اور سنتوں کے لیے نیا وضو کرلیا کرے؛ کیوں کہ شریعت میں معذور وہ شخص ہے جس کا عذر کسی نماز کے کامل وقت میں اس طرح پایا جائے کہ وہ وضو کرکے اس وقت کی فرض نماز نہ ادا کرسکے مثلاً فجر اور مغرب میں ہر دو یا تین منٹ پر اور ظہر عصر اور عشاء میں ہر چار منٹ پر ریاح کا خروج ہوتا ہو۔ اور پھر اگلے وقت میں صرف ایک بار اس عذر کا پایا جانا کافی ہے، اور اگر کسی فرض نماز کے وقت میں وہ عذر ایک بار بھی نہیں پایا گیا تو وہ شخص شرعاً معذور باقی نہیں رہے گا۔ اور اگر کبھی نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو کسی معتبر ومستند عالم یا مفتی سے بنا کے مسائل اچھی طرح سیکھ کر بنا کرلیا کرے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند