• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 52365

    عنوان: غسل كا صحیح طریقہ كیا ہے؟

    سوال: میں دہلی سے ہوں ، بہت سے مدرسے اور تعلیم میں جاتی ہوں ، مگر ہر تعلیم میں ہم خواتین کے غسل کا طریقہ الگ ہی پایا ، تو میں آپ سے جاننا چاہتی ہوں کہ ہم خواتین کا صحیح پاکی اور غسل کا طریقہ کیا ہے؟ اور ہمیں اس وقت کیادعائیں پڑھنی چاہئے ، دونوں حالات کی پاکی کا طریقہ کے بارے میں بتائیں․․․ حالت جنابت اور ماسکی ناپاکی ․․․․

    جواب نمبر: 52365

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 777-777/M=6/1435-U بہشتی زیور میں لکھا ہے کہ: غسل کرنے والی کو چاہیے کہ پہلے گٹے تک دونوں ہاتھ دھووے پھر استنجے کی جگہ دھووے ہاتھ اور استنجے کی جگہ پر نجاست ہو تب بھی اور نہ ہو تب بھی ہرحال میں ان دونوں کو پہلے دھونا چاہیے، پھر جہاں بدن پر نجاست لگی ہو پاک کرے، پھر وضو کرے، وضو کے بعد تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے، پھر تین مرتبہ داہنے کندھے پر پھر تین مرتبہ بائیں کندھے پر ڈالے ایسی طرح کہ سارے بدن پر پانی بہہ جائے۔ غسل واجب میں تین چیزیں فرض ہیں کہ بغیر ان کے غسل نہیں ہوتا، آدمی ناپاک رہتا ہے۔ (۱) اس طرح کلی کرنا کہ سارے منھ میں پانی پہنچ جائے۔ (۲) ناک میں پانی ڈالنا جہاں تک ناک نرم ہے۔ (۳) سارے بدن پر پانی پہنچانا۔ اس کی تفصیل اور غسل کے مزید مسائل کی جانکاری کے لیے دیکھئے اختری بہشتی زیور عکسی حصہ اول: ص۵۵)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند