• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 50879

    عنوان: ٹیک لگا کر سو جانے سے وضو ٹوٹ جاتاہے، مہربانی کرکے اس کی وضاحت کیجئے

    سوال: ٹیک لگا کر سو جانے سے وضو ٹوٹ جاتاہے، مہربانی کرکے اس کی وضاحت کیجئے ۔ میں یہاں امریکہ میں ہوں ، یہاں وضو بنانے کی کوئی سہولت نہیں ہے، وہاں پر پانی کی ٹوائلیٹ پیپر استعمال کیا جاتاہے، واش بیسن پر ہاتھ منہ تو دھو سکتے ہیں مگر پیر نہیں۔ایسی صورت میں صبح کا وضو عصر تک سنبھالنا پڑتاہے، کمپیوٹر پہ کام کرتے وقت میں ٹیک نہیں لگاتا ،مگر کمپوٹر پہ ہاتھ رہتے ہیں اور جھپکی آتی ہے، کیا اسے وضو ٹوٹ جاتاہے، کیا ایسی صورت میں تیمم جائز ہے؟

    جواب نمبر: 50879

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 472-505/N=4/1435-U (۱) اپنے جسم کے کسی حصہ یا کسی خارجی چیز کی ٹیک لے کر سونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے بشرطیکہ سرین زمین سے اچھی طرح چپکی ہوئی نہ ہو، اور اگر سرین زمین سے اچھی طرح چپکی ہوئی ہو تو ٹیک لگاکر سونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا کذا فی الدر والرد (کتاب الطہار، ۱: ۲۷۰- ۲۷۲ ط مکتبہ زکریا دیوبند) (۲) جی نہیں! اس طرح ٹیک لگائے بغیر کمپیوٹر کے ماوٴز یا کیبورڈ وغیرہ پر ہاتھ رہتے ہوئے صرف جھپکی آنے سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ (۳) جی نہیں! پانی موجود رہتے ہوئے اور اس کے استعمال پر قدرت ہوتے ہوئے ایسی صورت میں تیمم کی ہرگز اجازت نہ ہوگی، بلکہ ایسی صورت میں آپ کو چاہیے کہ اپنے ساتھ کوئی بوتل یا کوئی برتن رکھا کریں اور پیر دھونے کے لیے بوتل یا برتن میں پانی لے کر کسی مناسب جگہ پیروں کو دھولیا کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند