• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 41489

    عنوان: منی سے پہلے جوقطرے نکلتے ہے ان کے لباس پرلگنے سے لباس ناپاک ہوتاہے؟

    سوال: ۱- منی کے اخراج سے پہلے جولیس دارمادہ نکلتاہے کیا اس کے کپڑوں پرلگنے سے لباس ناپاک ہوجاتاہے؟نیز وہ خشک ہونے کے بعد کپڑے پرداغ نہیں رہتا بالکل پتہ ہی نہیں چلتاکہ کہاں لگاتھا تو کیالباس کودھوکرپاک کرناپڑے گا؟کیا اس لباس میں دھوئے بغیرنماز پڑھ سکتیہیں؟ ۲- اگرمشت زنی نہ کی جائے مگر اس حد تک کہ لیس دارمادہ نکل آئے اورمنی کے اخراج سے پہلے رک جائیں توکیااس سے غسل واجب ہوگا؟اورکیایہ بھی گناہ ہے؟

    جواب نمبر: 41489

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 896-895/N=10/1433 (۱) شہوت کے وقت منی کے خروج سے پہلے جو چکنا لیس دار مادہ نکلتا ہے، عربی میں اسے مذی کہتے ہیں، یہ شرعاً نجاست غلیظہ ہے، یہ کپڑے میں پھیلاوٴ میں اگر ہتھیلی کی گہرائی کی چواڑائی (ایک روپے) کی مقدار میں لگ جائے تو کپڑا ناپاک ہوجائے گا، کپڑے کو پاک کیے بغیر اس میں نماز درست نہ ہوگی۔ ”قال في الدر (مع الرد کتاب الطہارة باب الأنجاس: ۱/۵۲۰، ۵۲۲، ۵۲۳، ط: مکتبہ زکریا دیوبند): وعفا الشارع عن․․․ عرض مقعر الکف․․․ في رقیق من مغلظة کعذرة آدمي، وکذا کل ما خرج منہ موجبا لوضوء أو غسل مغلظ اھ․ (۲) اگر منی نہ نکلی تو صرف مذی نکلنے سے غسل واجب نہ ہوگا۔ منی نکلنے سے پہلے تک مشت زنی کرنا بھی صحت کے لیے سخت مضر ہے، اس لیے یہ بھی گناہ ہے اور اس سے بھی پرہیز کرنا واجب ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند