• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 39489

    عنوان: غسل كا طریقہ

    سوال: میں پورے جسم پر پانی بہاتاہوں، پھر کلی کرتاہوں، تیسرے دفعہ کلی کرتے ہوئے یہاں تک مجھے الٹی کی کیفیت ہوجائے، پھر ناک میں پانی ڈالتاہوں، تیسرے دفعہ یہاں تک کہ ناک میں عجیب قسم کی جلن محسوس نہ ہو جائے ، پھر تین دفعہ پورے جسم پر پانی بہالیتاہوں، اگر دوران غسل غلط خیال آجائے تو لاحولہ پڑھ سکتے ہیں تاکہ شیطان مردود سے خلاصی ہو؟

    جواب نمبر: 39489

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 979-588/L=7/1433 آپ کی تحریر سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کو غسل میں شک اور وسوسہ کا مرض ہے، آپ شک میں نہ پڑیں بس سنت کے مطابق غسل کرلیں، کلی کرنے میں بس اس پر اکتفا کرلیں کہ منھ میں پانی لے کر اس کو گھمالیں تاکہ ہرجگہ پانی پہنچ جائے، اس میں اس درجہ مبالغہ نہ کریں کہ الٹی کی کیفیت پیدا ہوجائے، اسی طرح ناک میں بس اس حد تک پانی پہنچادینا کافی ہے کہ پانی ناک کے نرم حصہ تک پہنچ جائے، ناک میں پانی پہنچانے میں اس درجہ شدت سے کام لینا کہ جلن کے محسوس ہونے کا خطرہ ہوجائے یہ حد سے تجاوز ہے، مذکورہ بالا طریقہ پر اگر آپ نے کلی اور ناک میں پانی ڈال لیا تو مزید شک میں پڑنے کی ضرورت نہیں، اگر کبھی شک پیدا ہو تو اس کی طرف توجہ دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے، واضح رہے کہ تمام بدن پر پانی بہانے سے پہلے وضو کرلینا مسنون ہے، اس لیے آپ پہلے وضو کریں اور پھر تمام بدن پر پانی بہائیں۔ نوٹ: اگر آپ بالکل ننگے نہ ہوں تو غلط خیال آجانے پر لاحول پڑھ سکتے ہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند