• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 38973

    عنوان: نہانے کے بعد اپنے مخرج میں جو پانی ہوتا ہے كیا اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

    سوال: - میں نہانے کے بعد اپنے مخرج میں جو پانی ہوتا ہے اسے ٹوائلیٹ پیپر سے جذب کر لیتا ہوں۔ کیا اس طرح کرنے سے وضو ٹوٹ جائے گا ؟ - اگر میں یہ نا کروں تو وہ جو پانی نکلے گا کیا وہ پاک ہو گا ؟ - پیشاب کے بعد جب میں استبرا کر کے فارغ ہو جاتا ہوں تو جو تری پیشاب کی مخرج میں ہو اور دبانے سے بھی نا نکلے تو کیا اس کو ٹوائلیٹ پیپر سے جذب کرنا ضروری ہے ؟ - کیا ہر وضو سے پہلے استنجاء ضروری ہے ؟

    جواب نمبر: 38973

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 501-525/N=8/1433 (۱) پیشاب کے مخرج میں موجود پانی ٹوائلٹ پیپر سے جذب کرلیا تو اس سے وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ وہ پیشاب نہیں ہے بلکہ باہر کا پانی ہے جو نالی کے اندر اوپری حصہ میں موجود ہے اور وضو پیشاب نکلنے سے ٹوٹتا ہے اور یہی حکم پاخانہ کے مخرج میں موجود بانی کا ہوگا کہ اسے بھی ٹوائلٹ پیپر وغیرہ سے جذب کرلینے سے وضو نہ ٹوٹے گا (مستفاد از شامی: ۱/۲۸۱، ۲۸۲، مطبوعہ زکریا دیوبند) (۲) جب وہ پیشاب یا پاخانہ کے مخرج کے اندر کا پانی نہیں ہے تو اس کے نکلنے سے وضو نہ ٹوٹے گا۔ (۳) نہیں، تھوڑی دیر توقف کرنے کے بعد جب اس بات کا یقین یا غالب گمان ہوجائے کہ پیشاب کے قطرات کا سلسلہ بند ہوگیا ہے، اٹھ جائے۔ (۴) وضو سے پہلے استنجا ضروری نہیں، اگر ضرورت ہو تو کرلے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند