• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 36057

    عنوان: وہم یا حقیقت ؟ پیشاب کے متعلق؟

    سوال: میرامسئلہ یہ ہے کہ مجھے پہلے پیشاب کے متعلق کوئی مسئلہ نہ تھا، پھرلوگوں سیسن سن کروہم یاحقیقت میں مسئلہ بن گیاکہ جب بھی پیشاب کرتا ہوں تو محسوس کرتا ہوں اوربہت سوچتا ہوں کہ مجھے قطرہ آیا ہیلیکن دیکھنے پرنہیں ہوتا، پرجب بھی اپنے عضو کو دباتا ہوں توتھوڑی سی تری محسوس ہوتی ہے۔ نوٹ کریں کہ اگر عضو کو نہ دباوَں تو کچھ نظر نہیں آتا، ایسا میں نے کئی گھنٹہ بھی دیکھا لیکن قطرہ اس وقت ہی آتا ہے جب عضو کو دبایا ورنہ نہیں۔ میں نے سب سے بڑییشاب کے ڈاکٹرسے بھی پوچھا اس نیکہا کہ یہ تو نارمل ہر انسان کیساتھ ہوتا ہے۔ سوال ہے کہ مجھے پیشاب کرنے کے بعدجواحساس محسوس ہوتا ہے پیشاب کی نالی میں اورجب تک وہ باقی رہتا ہے وہ میں سمجھتا ہوں کہ پیشاب کے قطرے ہیں لیکن دیکھنے پر نہیں ہوتے پرجب بھی اپنے عضو کو دباتا ہوں توتھوڑی سی تری نظرآتی ہے اس وجہ میری زندگی اجیرن ہوگئی ہے، کسی وقت دل چاہتا ہے کہ ساریاعمال چھوڑ دوں۔ ہر وقت اپنے آپ کوناپاک سمجھتا ہوں قرآن کوپڑھے ہوئے بھی سالوں ہو گئے ہیں، ذکر نہیں کر تابس نمازپڑھتا ہوں مایوسی کے ساتھ۔ میں زندگی کے باقی کاموں میں بھی ایساہوں ،نہاوَں تو تسلی نہیں ہوتی کہ غسل صحیح ہوا کہ نہیں؟ میں کیا کروں قطروں کا؟

    جواب نمبر: 36057

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 136=86-2/1433 وہم کی بیماری میں اسی طرح کی کیفیات عامةً ہوجاتی ہیں نہ آپ کو اعمال چھوڑنے کی ضرورت ہے نہ اپنے آپ کو ہروقت ناپاک سمجھنے کی حاجت ہے، قرآن کریم پڑھنے اور ذکر کرنے میں تو حدثِ اصغر یقینی طور پر ہو تب بھی مانع نہیں جو نماز احساس کی حالت میں اداء کرلی اور بعد میں دیکھنے پر کچھ نظر نہ آیا بلکہ عضو کے دبانے پر تری نکلی تو وہ نماز بھی بلاکراہت درست ہوگئی، اس طرح کا احساس غسل فرض میں بھی مانع نہیں بنتا۔ اگر غسل کے بعد عضو دبانے پر تری نکلی تو غسل کے اعادہ کی ضرورت نہیں، اگر ایک لنگی یا پاجامہ نماز کے لیے خاص کرلیں اور بعد فراغ بدل لیا کریں تو پھر احساس ہواکرے ہونے دیں، اس کی طرف توجہ ہی نہ دیا کریں اور تمام اعمال کو انجام دیتے رہا کریں، البتہ جب یقینی طور پر اندازہ ہوجائے اورقطرہ نکل ہی جائے تو عضو او رکپڑے کے جس حصہ پر قطرہ لگا اس کو دھوکر پاک کرلیا کریں، الغرض وہم کا علاج بس ترک توجہ ہے، ان شاء اللہ آہستہ آہستہ یہ بیماری بھی دور ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند