• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 31315

    عنوان: گردن کا مسح

    سوال: میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ گردن میں کوئی مسح نہیں ہے؟ نہ فرض نہ واجب ؟جب میں نے انکار کیا تو اس نے کہا کہ قرآن یا حدیث سے ثابت کرو۔ براہ کرم، اس بارے میں مدد کریں۔

    جواب نمبر: 31315

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 5514=141-4/1432 گردن کا مسح کرنا مستحب ہے، فرض، واجب یا سنت نہیں ہے۔ اس کے ثبوت میں پانچ احادیث ہیں اگرچہ وہ ضعیف ہیں لیکن فضائل اعمال میں ضعیف احادیث سے استدلال جائز ہے اس پر تمام علمائے اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے۔ اور ضعیف حدیث پر عمل کرنا بہتر ہے اس سے کہ اُس عمل کا انکار کیا جائے یا اسے ترک کیا جائے، جو لوگ گردن کے مسح کا انکار یا بدعت کہتے ہیں ان کا قول درست نہیں۔ (۱) روی أبونعیم في تاریخ أصفھان من حدیث ابن عمر أن النبي صلی اللہ علیہ وسلم قال: من توضأ ومسح عنقہ وقي الغلّ یوم القیامة۔ (۲) روی الدیلمي في مسند الفردوس من حدیث ابن عمر، مسح الرقبة أمان من الغلّ یوم القیامة، قال العلي القاري سندہ ضعیف، والضعیف یعمل بہ في فضائل الأعمال اتفاقاً، ولذا قال أئمتنا أنہ مستحب أو سنة․ (۳) روی أبوعبید في کتاب الطہور عن عبد الرحمن بن مہدي عن المسعودي عن القاسم ابن عبد الرحمن عن موسی ابن طلحة أنہ قال: من مسح قفاہ مع رأسہ وقي الغلّ یوم القیامة․ (۴) حکی ابن ہمام من حدیث وائل في صفة وضوء رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم، ثم مسح علی رأسہ ثلاثًا وظاہر أذنیہ وظاہر رقبتہ وأظنّہ قال ظاہر لحیتہ، ثم غسل قدمہ الیمنی الحدیث رواہ الترمذي․ (۵) روی أبو داوٴد وأحمد من حدیث طلحة ابن مصرّف عن أبیہ عن جدّہ قال: رأیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسح رأسہ مرة واحدة حتی بلغ القذال، ووقع في سنن أبي داوٴد وہو أول الفقاء․ (ماخوذ تحفة الطلبة في تحقیق مسح الرقبة، منجملہ از رسائل مولانا عبد الحي عفی عنہ)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند