• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 3111

    عنوان:

    کبھی کبھار پیشاب کا قطرہ گرتاہے یا منی کے علاذکر سے وہ دوسری ناپاکی نکل آتی ہے جس سے میرے کپڑے گندے ہوجاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ میں نے اسے دھویا اور کچھ وقت کے لیے را س الذکر کو پٹی سے بند کردیا پھر وضو کرکے نماز اداکی اور قرآن کریم کی تلاوت کی۔ جب میں باتھ روم میں جار پٹی کو ہٹایاتو دیکھا کہ بندکی ہوئی جگہ پر کچھ ناپاکی تھی، میں نے اسے دھویا اور پھر پٹی سے بند کردیا۔ کیا اس طرح کی حالت میں نماز دروست ہوجائے گی؟ براہ کرم، اس مسئلہ کا کوئی حل بھی بتائیں۔

    سوال:

    کبھی کبھار پیشاب کا قطرہ گرتاہے یا منی کے علاذکر سے وہ دوسری ناپاکی نکل آتی ہے جس سے میرے کپڑے گندے ہوجاتے ہیں ۔ ایک مرتبہ کی بات ہے کہ میں نے اسے دھویا اور کچھ وقت کے لیے را س الذکر کو پٹی سے بند کردیا پھر وضو کرکے نماز اداکی اور قرآن کریم کی تلاوت کی۔ جب میں باتھ روم میں جار پٹی کو ہٹایاتو دیکھا کہ بندکی ہوئی جگہ پر کچھ ناپاکی تھی، میں نے اسے دھویا اور پھر پٹی سے بند کردیا۔ کیا اس طرح کی حالت میں نماز دروست ہوجائے گی؟ براہ کرم، اس مسئلہ کا کوئی حل بھی بتائیں۔

    جواب نمبر: 3111

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 421/ ب= 44/ ب

     

    اگر کسی نماز کا پورا وقت اس حالت میں گزرجائے کہ برابر قطرہ آتا رہے اوراتنی مہلت نہ مل سکے کہ آپ وضو کرکے نماز پڑھ سکیں تو آپ شرعاً معذور ہوجائیں گے ورنہ اگر کسی کو بیس یامثلاً تیس منٹ کے بعد اطمینان حاصل ہوجائے تو یا کبھی کبھار آجاتا ہے تھوڑا سا قطرہ تو پھر آپ معذور نہیں ہیں۔ صورت مسئولہ میں آپ معذور نہیں، لہٰذا جب بند کی ہوئی جگہ پر کچھ ناپاکی تھی تو پھر آپ کی نماز واجب الاعادة ہے وشرط لثبوت العذر ابتداء ا أن یستوعب استمرارہ وقت الصلاة کاملاً وھو الأظھر کالانقطاع لا یثبت مالم یتسوعب الوقت کلہ حتی لو سال دمھا في بعض وقت الصلاة فتوضأت وصلت․․․ وشرط بقائہ أن لا عفي وقت إلا والحدث الذي ابتلي منہ یوجد منہ (الفتاوی العالمگیریة ج۱ ص۴۱، الفصل الرابع في أحکام الحیض)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند