• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 29469

    عنوان: (۱) مجھے روز صبح اٹھ کر یہ فکر رہتی ہے کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں حالانکہ رات میں کچھ خواب وغیرہ دیکھنایاد نہیں ہوتاہے اور صبح اٹھ کر کچھ گلاپن بھی محسوس نہیں ہوتاہے ، تو ایسی صورت میں کیا مجھے روز اٹھ کر بدن اور کپڑوں میں جانچ کرنی چاہئے؟(۲) سنت طریقے پر بال کی مانگ نہ نکالنے اور ٹیڑھی مانگ نکالنے اور کٹنگ کے بعد استرا لگواکر گردن کے بال صاف کرنے میں کوئی گناہ ہے کیا؟ (۳) ان شرٹ کرنا( کرتے کے نچلے حصہ کو پینٹ کے اندر گھسانا) حرام ہے کیا ؟ براہ کرم،اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ 

    سوال: (۱) مجھے روز صبح اٹھ کر یہ فکر رہتی ہے کہ احتلام ہوا ہے یا نہیں حالانکہ رات میں کچھ خواب وغیرہ دیکھنایاد نہیں ہوتاہے اور صبح اٹھ کر کچھ گلاپن بھی محسوس نہیں ہوتاہے ، تو ایسی صورت میں کیا مجھے روز اٹھ کر بدن اور کپڑوں میں جانچ کرنی چاہئے؟(۲) سنت طریقے پر بال کی مانگ نہ نکالنے اور ٹیڑھی مانگ نکالنے اور کٹنگ کے بعد استرا لگواکر گردن کے بال صاف کرنے میں کوئی گناہ ہے کیا؟ (۳) ان شرٹ کرنا( کرتے کے نچلے حصہ کو پینٹ کے اندر گھسانا) حرام ہے کیا ؟ براہ کرم،اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ 

    جواب نمبر: 29469

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(م):352=352-3/1432

    (۱) ایسی صورت میں روزانہ اٹھ کر چیک کرلینا اچھا ہے تاکہ اطمینان ہوجائے اور تذبذب دور ہوجائے، جب تک بدن یا کپڑے پر احتلام کا اثر ظاہر نہ ہو غسل واجب کا حکم نہ ہوگا۔
    (۲) خلاف سنت بال کی مانگ نکالنے او رکٹنگ کرانے میں فساق کی مشابہت ہے جس کا گناہ ہونا ظاہر ہے، گردن الگ عضو ہے، گردن کے بال صاف کرانے میں مضائقہ نہیں۔
    (۳) صلحا کا طریقہ نہیں ہے، لہٰذا ناپسندیدہ ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند