• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 19116

    عنوان:

    مجھ کو اپنا ایک ذاتی مسئلہ حل کرنے کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے جس نے میری زندگی کو کئی سالوں سے بہت مشکل بنادیا ہے۔ میری پریشانی یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو بہت ساری گیس میرے پیٹ میں بننا شروع ہوجاتی ہے۔میں پریشانی سے وضو کرتا ہوں اس کو روک کرکے اور اسی طرح سے روک کرکے نماز بھی پڑھتا ہوں۔ یہ پریشانی ہمیشہ اسی وقت پیش آتی ہے جب میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کرتاہوں۔ دوسرے اوقات میں میری گیس کی پریشانی ایسے ہی ہوتی ہے جیسے کہ عام لوگوں کی ہوتی ہے۔ ذیل میں ان پریشانیوں کی تفصیل ہے۔۔۔۔؟

    سوال:

    مجھ کو اپنا ایک ذاتی مسئلہ حل کرنے کے لیے آپ کی مدد کی ضرورت ہے جس نے میری زندگی کو کئی سالوں سے بہت مشکل بنادیا ہے۔ میری پریشانی یہ ہے کہ جب میں نماز پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں تو بہت ساری گیس میرے پیٹ میں بننا شروع ہوجاتی ہے۔میں پریشانی سے وضو کرتا ہوں اس کو روک کرکے اور اسی طرح سے روک کرکے نماز بھی پڑھتا ہوں۔ یہ پریشانی ہمیشہ اسی وقت پیش آتی ہے جب میں نماز پڑھنے کا فیصلہ کرتاہوں۔ دوسرے اوقات میں میری گیس کی پریشانی ایسے ہی ہوتی ہے جیسے کہ عام لوگوں کی ہوتی ہے۔ ذیل میں ان پریشانیوں کی تفصیل ہے جس کو میں اس کی وجہ سے برداشت کررہا ہوں۔ (۱)میں کناڈا میں رہتا ہوں جہاں پرآفس کے ماحول میں وضو کرنے اور وقت پر نماز پڑھنے میں بہت زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔میں ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنا چاہتا ہوں خاص طور پر ٹھنڈ کے موسم میں لیکن میں ایسا نہیں کرسکتاہوں۔ (۲)جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بہت مشکل ہے۔ میں اکثر مسجد جانا چاہتاہوں لیکن یہ میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ (۳)میں نماز کے دوران پوری توجہ نہیں ڈال پاتا ہوں کیوں کہ میری زیادہ توجہ گیس کو روکنے پر ہوتی ہے نماز ادا کرنے کے بالمقابل۔ حتی کہ اس کے بعد اکثر اوقات مجھ کو یقین نہیں ہوتا ہے کہ آیا میرا وضو برقرار ہے یا نہیں۔ (۴)میں نفل نماز نہیں پڑھ پاتاہوں کیوں کہ میرے لیے فرض کو پورا کرنا ہی بہت مشکل ہوتا ہے۔ (۵)کبھی لوگ مجھ کو نماز پڑھانے کے لیے زور دیتے ہیں جس سے میں بچنے کی کوشش کرتاہوں لیکن ہر وقت مجھ کو ایسا کرنا پڑتاہے۔ اس سے مجھ کو احساس جرم ہوتا ہے کہ میں اپنی حالت کی وجہ سے دوسرے لوگوں کی نماز کو خراب کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہوں۔ میری رائے میں مجھ کو وضو توڑنے سے معذور ہونا چاہیے گیس کو خارج کرکے کیوں کہ میرے اوپر کوئی کنٹرول نہیں ہوتاہے۔ جب تک میرا وضو رہتا ہے تو ریح مجھ کو پریشان کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ اس کو خارج کرکے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ برائے کرم ذہن میں اوپر مذکور پریشانیوں کو رکھتے ہوئے مجھے مشورہ عنایت فرماویں نیز یہ حقیقت کہ میں مغربی ملک میں رہتا ہوں جہاں شریعت پر عمل درآمد کرنا بہت زیادہ مشکل ہوتاہے۔

    جواب نمبر: 19116

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د): 286=244-3/1431

     

    مسئلہ یہ ہے کہ جس کو خروج ریح کا مرض ہو مگر نماز کا پورا وقت نہ گھیرتا ہو بلکہ اتنا وقت مل جاتا ہو کہ طہارت کی حالت میں نماز پڑھ سکے تو وہ معذور نہیں ہے لہٰذا آپ ایک وضو سے کئی نمازیں پڑھنے کی کوشش نہ کریں، جب وضو ٹوٹ جائے تازہ وضو کرکے بقیہ نماز پوری کریں، البتہ آپ خفین کا استعمال کریں تو پاوٴں دھونے کی ہروقت ضرورت نہ رہے گی۔

    (۲) اگر مسجد جانے میں وضو ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو تو آپ گھر پر ہی نماز پڑھ لیا کریں، ترک جماعت میں آپ معذور ہیں۔

    (۳) اگر اس درجہ کا غلبہ ہو تو کچھ وقفہ کے بعد اطمینان سے نماز ادا کریں، یا بیٹھ کر نماز پڑھیں، ترک قیام میں آپ معذور ہیں۔

    (۴) ایسی پریشانی کی کیفیت میں نفل نہ پڑھیں تو مضائقہ نہیں، تسبیحات وغیرہ کثرت سے پڑھ لیا کریں۔

    (۵) ایسی غلبہٴ ریاح کی کیفیت میں آپ امامت سے عذر کردیا کریں۔

    (۶) آدمی معذور اس وقت ہوتا ہے جب اس پر ایک نماز کا پورا وقت اس طرح گذرجائے کہ عذر برابر باقی ہو اور اتنا بھی وقت نہ ملے کہ اس وقت کی نماز طہارت کے ساتھ پڑھ سکے۔ اگر اتناوقت مل گیا کہ اس میں طہارت کے ساتھ نماز پڑھ سکتا ہے تو وہ معذور نہ ہوگا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند