• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 179828

    عنوان:

    عام موزے پر مسح کا حکم

    سوال:

    ساکس(موزہ) پر مسح کرنے کا کیا حکم ہے ؟ کیا اس سے وضو ہو جائے گا اور موزوں پر کیا حکم ہے ؟

    جواب نمبر: 17982814-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:15-8/SN/=1/1442

     چمڑے کے موزے پر مسح تو بلاشبہ جائز ہے ، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے ؛ رہے دوسرے موزے تو تمام مستند ومعتبر فقہا ومجتہدین اس پر متفق ہیں کہ کپڑے کے وہ باریک موزے جن سے پانی چھن جاتا ہو یا وہ کسی چیز سے باندھے بغیر محض اپنی ثخانت وموٹائی کی وجہ سے پنڈلی پر کھڑے نہ رہ سکتے ہوں یا انھیں پہن کر میل دو میل مسلسل چلنا ممکن نہ ہو ان پر مسح جائز نہیں ہے ۔

    أما المسح علی الجوربین فإن کانا مجلدین، أو منعلین، یجزیہ بلا خلاف عند أصحابنا وإن لم یکونا مجلدین، ولا منعلین ، فإن کانا رقیقین یشفان الماء، لایجوزالمسح علیہما بالإجماع، وإن کانا ثخینین لایجوز عند أبی حنیفة وعند أبی یوسف، ومحمد یجوز) (بدائع الصنائع1/83، زکریا دیوبند)...فی المجتبی: لا یجوز المسح علی الجورب الرقیق من غزل أو شعر بلا خلاف. (البحرالرائق:2/318، زکریا دیوبند)

    البتہ کپڑے کے موزے خوب موٹے ہوں جن کی فقہائے کرام نے کچھ شرطیں ذکر کی ہیں تو ان پر مسح جائز ہے ؛ لیکن اس زمانے میں جس قسم کے اونی، سوتی یا نائیلون کے موزے رائج ہیں اور عام طور پر لوگ انھیں پہنتے ہیں، وہ باریک ہوتے ہیں اور ان پر فقہائے کرام کی ذکر کردہ شرائط نہیں پائی جاتی ہیں؛ لہٰذا ایسے موزوں پر مستند ومعتبر علما میں سے کسی کے نزدیک بھی مسح جائز نہ ہوگا اور اگر کوئی ایسے موزوں پر مسح کرے گا تو اس کا وضو نہ ہوگا اور جب وضو نہ ہوگا تو نماز بھی نہ ہوگی ، اور جو شخص اس طرح کے موزے پر مسح کرکے نماز پڑھائے گااس کے پیچھے نمازپڑھنے والوں کی نماز بھی نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند