• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 15984

    عنوان:

    میں بائیس سال کی ہوں میں نماز کے لیے کبھی بھی وضو کرتی ہوں تو مجھے تسلی نہیں ہوتی، ایسا خیال آتا ہے کہ میرا وضو نہیں ہوا ہوگا یا کچھ کمی رہ گئی ہوگی، یا ہوا نکل گئی ہوگی۔ میں تقریباً تین سے دس بارہ مرتبہ ایک وضو کرتی ہوں، پھر بھی کبھی کبھی نماز میں خیال آجاتا ہے تو میں نماز توڑ کر پھر پڑھتی ہوں۔ اس طرح سے کبھی نماز کا وقت بھی چلا جاتا ہے، یاوضو سے بیزارگی بھی آتی ہے اور پانی بھی بہت خرچ ہوتاہے، میں کیا کروں؟ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کیوں کہ رمضان شروع ہورہا ہے۔ اللہ آپ کی کوششوں کو قبول کرے اور ثواب داریں سے نوازے اور ہم تمام کو عمل کی توفیق دے، آمین۔ اپنی دعاؤں میں خاص کر اجتماعی دعاؤں میں ہم کو شامل کیجئے۔

    سوال:

    میں بائیس سال کی ہوں میں نماز کے لیے کبھی بھی وضو کرتی ہوں تو مجھے تسلی نہیں ہوتی، ایسا خیال آتا ہے کہ میرا وضو نہیں ہوا ہوگا یا کچھ کمی رہ گئی ہوگی، یا ہوا نکل گئی ہوگی۔ میں تقریباً تین سے دس بارہ مرتبہ ایک وضو کرتی ہوں، پھر بھی کبھی کبھی نماز میں خیال آجاتا ہے تو میں نماز توڑ کر پھر پڑھتی ہوں۔ اس طرح سے کبھی نماز کا وقت بھی چلا جاتا ہے، یاوضو سے بیزارگی بھی آتی ہے اور پانی بھی بہت خرچ ہوتاہے، میں کیا کروں؟ برائے کرم جلد از جلد جواب عنایت فرمائیں کیوں کہ رمضان شروع ہورہا ہے۔ اللہ آپ کی کوششوں کو قبول کرے اور ثواب داریں سے نوازے اور ہم تمام کو عمل کی توفیق دے، آمین۔ اپنی دعاؤں میں خاص کر اجتماعی دعاؤں میں ہم کو شامل کیجئے۔

    جواب نمبر: 15984

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1433=1144/1430/ل

     

    محض شک کی وجہ سے آپ دوبارہ سہ بارہ وضو نہ کریں، بلکہ ایک بار آپ سنن ومستحبات کی پوری رعایت کرتے ہوئے وضو کریں، اور بعد میں اگر وضو کے نہ ہونے یا ریح کے خارج ہونے کا شبہ ہو تو اس کی طرف التفات نہ کریں۔ اسی طرح اگر کبھی نماز میں خیال آجائے تو محض شک کی وجہ سے نماز توڑکر از سر نو وضو کرنے نہ جائیں۔ شک وشبہ پر عمل کرنے سے آدمی دماغی مریض بھی ہوسکتا ہے، اس لیے اس کی طرف بالکلیہ توجہ نہ دیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند