• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 156750

    عنوان: گیس کی بیماری کی وجہ سے دوران نماز ہوا خارج ہونا؟

    سوال: حضرت مفتی صاحب! میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو گیس کی بیماری ہو اور روزانہ نماز میں اس کی ہوا خارج ہو جائے تو ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ آیا وہ بار بار وضو کرے یا کچھ اور حکم ہے اس کے بارے میں؟

    جواب نمبر: 156750

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:278-244/D=4/1439

    اگر کسی شخص پر ایک نماز کا مکمل وقت گزرجائے اور اتنی دیر بھی ریح نہ رکے کہ جس میں وضو کرکے چار رکعت پڑھ سکے تو شرعاً وہ معذور ہے، اور اُن کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ نماز کا وقت شروع ہونے پر وضو کرلیا کریں پھر اس وضو سے نماز پڑھتے رہیں، جب تک اس نماز کا وقت باقی رہے گا ریح خارج ہونے سے وضو نہیں ٹوٹے گا، اور جب نماز کا وقت ختم ہو اور اگلی نماز کا وقت شروع ہوجائے تو نیاوضو کرلیں اور اس سے نماز پڑھتے رہیں، نیز جب تک یہ عذر باقی رہے اس وقت تک ایسا کرتے رہیں۔ وصاحب عذر من بہ سلس بول لا یمکنہ إمساکہ أو استطلاق بطن أو انفلات ریح أو استحاضة ․․․ إن استوعب عذرُہ تمام وقت صلاة مفروضة بأن لا یجد في جمیع وقتہا زمنا یتوضأ ویصلي فیہ خالیا عن الحدث الخ (تنویر مع الدر: ۱/۵۰۴، ط: زکریا دیوبند)

    نوٹ: معذور کے مسائل میں اور بھی باریکیاں ہیں اس سلسلے میں مقامی علماء سے رجوع کریں یا بہشتی زیور میں سمجھ کر پڑھ لیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند