• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 145848

    عنوان: معذور شرعی کے لیے ایک وضو سے مجبوراً کئی نمازیں؟

    سوال: حضرت میں نے طہارت کے متعلق پوچھنا ہے کہ گزشتہ فتویٰ میں آپ سے پوچھا تھا کہ میں لیکوریا کی مریضہ ہوں تفصیل بتائی تھی آپ نے مجھے شرعی معذور قرار دیا اور فرمایا کہ میں نماز کا وقت ہونے پر وضو کر لوں اور اسی وضو سے نفل نماز تلاوت قرآن پاک کر سکتی ہوں اگلی نماز تک میرے کچھ سوالات ہیں۔ (۱) میں حمل کی وجہ سے ہسپتال جاتی ہوں اور اکثر عصر کی نماز کا وقت ہسپتال میں ہوجاتا ہے میں گھر سے وضو کر کے جاتی ہوں اور وہاں پر نماز ادا کرتی ہوں جب وضو کرتی ہوں اس وقت عصر کا وقت داخل نہیں ہوتا کچھ وقفے کے بعد ہوتا ہے نیز ہسپتال میں وضو کی سہولت ہے پر مشکل ہے کپڑے بھی ناپاک ہو جاتے ہیں (۲) میں جب سفر کرتے ہوں میکے کے لیے تو ایک وضو سے ظہر عصر مغرب اور عشاء کی نماز ادا کرتی ہوں کیونکہ گاڑی نہ تو نماز کے لیے رکتی ہے نہ وضو کے لیے نیز گاڑی کے اندر وضو کی سہولت بھی نہیں کیا ایک وضو سے 4 نمازیں ادا کر سکتی ہوں کیونکہ میں شرعی معذور ہوں لیکوریا کی وجہ سے میں جب باہر جاتی ہوں تو بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہوں کیونکہ آس پاس نامحرم موجود ہوتے ہیں اور پردے کی وجہ سے میں ایسا کرتی ہوں نیز ٹرین میں کہڑا ہو کر پڑھنے سے گرنے کے چانسز ہوتے ہیں اس لیے ٹرین میں اور ہسپتال میں بیٹھ کر نماز ادا کرتی ہوں کیا یہ جائز ہے ؟ خیراً برائے مہربانی مجھے جلد جواب دیا جائے ۔

    جواب نمبر: 145848

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 132-137/M=2/1438

     

    آپ کو سابقہ فتوی منسلک کرکے دوبارہ سوال کرنا چاہئے تھا شرعی معذور اسے کہتے ہیں جس کا عذر ایک نماز کے پورے وقت کو محیط ہو اور اتنا بھی خالی وقفہ نہ ملے کہ وضو کرکے فرض نماز ادا کرسکے اگر آپ کے ساتھ بھی یہی صورت حال ہے تو آپ واقعی شرعی معذور ہیں اور معذور برقرار رہنے کے لیے بس اتنی شرط ہے کہ ایک نماز کے پورے وقت میں ایک مرتبہ وہ عذر ضرور پیش آجائے چاہے تھوڑی دیر کے لیے ہو اگر ایسا ہے تو آپ معذور برقرار ہیں اور معذور کا حکم یہ ہے کہ وقت ختم ہونے کے ساتھ اس کا وضو بھی ختم ہو جاتا ہے لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ جو عصر کا وقت داخل ہونے سے پہلے گھر سے وضو کرکے جاتی ہیں اس وضو سے عصر کی نماز پڑھنا درست نہیں، آپ کو چاہئے کہ عصر کا وقت شروع ہو جانے کے بعد عصر کے لیے وضو کریں اور اگر آپ شرعی معذور نہیں ہیں تو آپ عصر سے پہلے عصر کے لیے وضو کرسکتی ہیں لیکن اگر وضو کرنے کے بعد ناقض وضو چیز پائی گئی، تو اس سے وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر آپ شرعاً معذور ہیں تو ایک وضو سے ظہر، عصر، مغرب اور عشاء پڑھنا درست نہیں کیوں کہ معذور کا وضو ایک نماز کے وقت کے ختم ہونے کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے، دوسرے وقت کی نماز کے لیے اس کو دوسرا وضو کرنا ضروری ہوتا ہے چاہے آپ سفر میں ہوں یا حضر میں۔ اگر سفرمیں ٹرین پر سوار ہیں تو ٹرین کے ٹوائلٹ وغیرہ میں پانی ہوتا ہے اگر بالکل نہ ہو اور وقت کے اندر اسٹیشن پر رکنے کی بھی توقع نہ ہوتو ایسی صورت میں تیمم کی اجازت ہے اور قیام رکوع سجدہ پر قدرت ہوتو بیٹھ کر نماز ادا کرنا صحیح نہیں چلتی ہوئی ٹرین میں کھڑی ہو کر نماز پڑھنا ناممکن نہیں ہے اور ہسپتال میں تو کھڑی ہوکر پڑھ ہی سکتی ہیں اگر نامحرم لوگ ہوں تو کچھ پردے کی شکل بناکر پڑھ لیں یا کسی ایک کو نہ میں قبلہ رخ ہوکر پڑھ لیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند