• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 1348

    عنوان: ہمارے یہاں مسجد میں استنجاء خانوں کے اوپر پانی کی ٹنکی سیمنٹ کی بنی ہوئی ہے اور اس کا اوپری حصہ کھلا ہوا ہے۔ مسجد میں بندر اکثر آتے ہیں اور وہ اوپر کے کھلے حصے میں منھ ڈال کر پانی پی لیتے ہیں۔ کیا بندر کا جھوٹا پاک ہے؟ اگر ناپاک ہو تو اس پانی کی ٹنکی کو پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ ناپاک ہونے کی صورت میں ابھی تک جو نمازیں اس پانی کو استعمال کرکے پڑھی گئیں ان کا کیا حکم ہوگا؟

    سوال: ہمارے یہاں مسجد میں استنجاء خانوں کے اوپر پانی کی ٹنکی سیمنٹ کی بنی ہوئی ہے اور اس کا اوپری حصہ کھلا ہوا ہے۔ مسجد میں بندر اکثر آتے ہیں اور وہ اوپر کے کھلے حصے میں منھ ڈال کر پانی پی لیتے ہیں۔ کیا بندر کا جھوٹا پاک ہے؟ اگر ناپاک ہو تو اس پانی کی ٹنکی کو پاک کرنے کا شرعی طریقہ کیا ہے؟ ناپاک ہونے کی صورت میں ابھی تک جو نمازیں اس پانی کو استعمال کرکے پڑھی گئیں ان کا کیا حکم ہوگا؟

    جواب نمبر: 1348

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى:  466/م = 463/م)

     

    بندر کا جھوٹا ناباک ہے: وسوٴر خنزیر و کلب وسبع بھائم نجس (الدر المختار مع الشامي، ط زکریا : ج۱ ص۳۸۹) اس طرح کی ٹنکیوں میں جو پانی ہوتا ہے وہ چوں کہ عموماً ماء راکد قلیل (ٹھہرا ہوا تھوڑا پانی) ہوتا ہے اس لیے بندر کے منھ ڈالنے سے ایسا پانی ناپاک ہوجائے گا۔ اور اس کے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ٹنکی میں ایک طرف سے پانی داخل کیا جائے اور دوسری طرف سے نکالا جائے، دوسری طرف سے پانی نکلتے ہی ٹنکی اور پائپ وغیرہ سب پاک ہوجائیں گے۔ پاک کرنے کے لیے پانی کی کوئی خاص مقدار نکالنا ضروری نہیں۔ البتہ احتیاط یہ ہے کہ بندر کے پیتے وقت جتنا پانی ٹنکی میں موجود رہا ہو اتنا پانی نکال دیا جائے: وقال أبوجعفر الھندواني: یطھر بمجرد الدخول من جانب والخروج من جانب وإن لم یخرج مثل ما کان فیہ، وھو أي قول الھندواني اختار الصدر الشھید حسام الدین لأنہ حینئذ یصیر جاریًا والجاري لا ینجس ما لم یتغیر بالنجاسة (شرح منیة بحوالہ آلاتِ جدیدہ کے شرعی احکام: ص۱۸۵) یہ تو ہوا ٹنکی کے پانی کا شرعی حکم اور اس کے پاک کرنے کا طریقہ، البتہ مسجد کی انتظامیہ کو چاہیے کہ ٹنکی کو ڈھک دے یا جال لگادے تاکہ بندر پانی کو ناپاک نہ کرسکیں۔ رہا نماز کا مسئلہ تو اگر بندر کو ٹنکی سے پانی پیتے ہوئے دیکھا گیا ہو تو چوں کہ یہ پانی اس صورت میں ناپاک ہوجائے گا اس لیے اس کو استعمال کرکے پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند