• عبادات >> طہارت

    سوال نمبر: 11141

    عنوان:

    میرا گھر کافی بڑا ہے، کچن اور دو باتھ روم ہیں۔ گھر میں پیسہ کی فراوانی ہے۔ کسی بھی مجبوری کے نہ ہوتے ہوئے عادتاً میری ساس ڈائننگ ٹیبل کا کپڑا واش بیسن جس میں ناک صاف کی جاتی ہے اور سب برش بھی کرتے ہیں اس میں دھوکرکے اس سے میز صاف کرتی ہیں۔ مجھے بہت کراہیت آتی ہے۔ صرف یہی نہیں کپڑا دھوتے وقت باتھ روم میں فلیش کی چوکی پر بیٹھ کر کپڑے دھوتی ہیں۔اور اسی چوکی کے پاس کپڑے بھی ڈال کر دھوتی ہیں۔ غسل کئے بغیر انھیں کپڑوں سے کبھی بستر اورکبھی پاک صاف کرسی پر بھی بیٹھ جاتی ہیں۔ میری امی نے میری پاکی کے معاملہ میں بہت سخت تربیت کی ہے۔ پر میں فساد کے خوف سے انھیں کچھ نہیں گہتی۔ آپ صرف رہنمائی فرماویں کہ کیا ان جگہوں پر بیٹھنے سے میں بھی ناپاک ہوجاؤں گی؟اور اگرکوئی ان تمام سہولتوں کے باوجود غلاظت کو نظر انداز کرے تو کیا یہ درست ہے؟ کیوں کہ لوگ اس کو وہم پر محمول کرتے ہیں، اور مذاق اڑاتے ہیں۔ میں ان سے کچھ کہنا نہیں چاہتی وہ جو چاہیں کریں۔ پر مجھے اپنے لیے یہ بتا دیں کہ مجھے طہارت کا اجر ملے گا یا نہیں؟ کیوں ان چیزں کو دیکھ کر فطرتاً بھی گھن آتی ہے۔ او رہمارا دین دینِ فطرت ہے۔

    سوال:

    میرا گھر کافی بڑا ہے، کچن اور دو باتھ روم ہیں۔ گھر میں پیسہ کی فراوانی ہے۔ کسی بھی مجبوری کے نہ ہوتے ہوئے عادتاً میری ساس ڈائننگ ٹیبل کا کپڑا واش بیسن جس میں ناک صاف کی جاتی ہے اور سب برش بھی کرتے ہیں اس میں دھوکرکے اس سے میز صاف کرتی ہیں۔ مجھے بہت کراہیت آتی ہے۔ صرف یہی نہیں کپڑا دھوتے وقت باتھ روم میں فلیش کی چوکی پر بیٹھ کر کپڑے دھوتی ہیں۔اور اسی چوکی کے پاس کپڑے بھی ڈال کر دھوتی ہیں۔ غسل کئے بغیر انھیں کپڑوں سے کبھی بستر اورکبھی پاک صاف کرسی پر بھی بیٹھ جاتی ہیں۔ میری امی نے میری پاکی کے معاملہ میں بہت سخت تربیت کی ہے۔ پر میں فساد کے خوف سے انھیں کچھ نہیں گہتی۔ آپ صرف رہنمائی فرماویں کہ کیا ان جگہوں پر بیٹھنے سے میں بھی ناپاک ہوجاؤں گی؟اور اگرکوئی ان تمام سہولتوں کے باوجود غلاظت کو نظر انداز کرے تو کیا یہ درست ہے؟ کیوں کہ لوگ اس کو وہم پر محمول کرتے ہیں، اور مذاق اڑاتے ہیں۔ میں ان سے کچھ کہنا نہیں چاہتی وہ جو چاہیں کریں۔ پر مجھے اپنے لیے یہ بتا دیں کہ مجھے طہارت کا اجر ملے گا یا نہیں؟ کیوں ان چیزں کو دیکھ کر فطرتاً بھی گھن آتی ہے۔ او رہمارا دین دینِ فطرت ہے۔

    جواب نمبر: 11141

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 372=42/د

     

    (۱) واش بیسن میں ناک صاف کرنے یا برش کرنے کے بعد اگر واش بیسن پانی بہنے سے صاف ہوجاتا ہے تو پھر اس میں کوئی کپڑا دھوکر ڈائننگ ٹیبل صاف کرنے میں مضائقہ نہیں ہے، ہاں اگر ناک یا تھوک وغیرہ کا کچھ حصہ بیسن میں رہ جاتا ہو پھر اسی میں کپڑا دھوکر میز صاف کی جاتی ہی یہ نظافت اور ستھرائی کے خلاف ہے، جب کہ کپڑے میں اس گندگی کے لگ جانے کا احتمال ہو اور اگر بیسن صاف ستھرا ہے، اس میں کوئی گندگی وغیرہ نہیں ہے، تو اس میں کپڑا بھگوکر میز صاف کرنا نظافت کے خلاف بھی نہیں ہے، بلکہ یہ صرف آپ کا توہم ہے جسے دور کرنا چاہیے۔

    (۲) فلیش کی چوکی پر بیٹھ کر کپڑا دھونا جب کہ نجس چھینٹ پڑنے کا احتمال نہ ہو اس طور پر کہ وہ جگہ خوب صاف کرلی گئی ہو، اسے صرف نظافت اور ستھرائی کے خلاف کہا جاسکتا ہے، احتیاط کرلینا بہتر ہے کہ وہاں نہ دھوکر کسی دوسری جگہ دھولیا کریں۔ لیکن نجس چھینٹ پڑنے کا شبہ نہ ہونے کی صورت میں بوقت ضرورت دھولینے کی گنجائش ہے۔

    (۳) انہیں مذکورہ عمل سے غسل کرنا واجب نہیں ہے، نجس چھینٹیں پڑنے کا شبہ ہو تو صرف اس حصہ کا دھونا واجب ہے جہاں چھینٹیں پڑی ہیں۔ ہاں اگر نجبس چھینٹوں کے پڑنے کا احتمال ہو تو آپ انھیں نرمی اور حکمت سے متوجہ کردیں کہ وہ اس جگہ دھونے سے احتیاط برتیں۔

    (۴) آپ ان جگہوں پر بیٹھنے سے ناپاک نہیں ہوں گی یہ آپ کا وہم ہے جسے دل سے دور کردیں، البتہ نظافت کے تقاضہ سے آپ اپنی ساس کو نرمی سے سمجھادیں کہ واش بیسن میں جب ناک تھوک کی گندگی موجود ہو تو اس میں رکھ کر کپڑا نہ دھویا کریں، بلکہ جگہ کو اچھی طرح صاف کرلیا کریں، یا دوسری کسی جگہ کپڑا بھگولیا کریں، اسی طرح باتھ روم میں نجاست پیشاب وغیرہ کا ہونا بعید نہیں ہ، اس لیے کپڑے وہاں نہ دھویا کریں، یا جگہ خوب اچھی طرح تین مرتبہ دھوکر پاک کرلیا کریں، تب کپڑا دھویا کریں۔ اور یہ بھی بتلادیں کہ صفائی ہونے کی حالت میں بھی باتھ روم میں بلاضرورت (جب کہ دوسری جگہ موجود ہے) کپڑے دھونا وہ بھی فلیش کی سیٹ پر بیٹھ کر نظافت کے خلاف ہے۔ اور نظافت ایمان کا جز ہے لیکن طبائع مختلف ہوتی ہیں، اس لیے نجاست یا شبہ نجاست پر نکیر کیا جاسکتا ہے۔ نظافت تو سمجھا بجھاکر طبیعت میں پیدا کرنے کی چیز ہے اس پر کسی کو مجبور نہیں کیا جاسکتا، اگر برا ماننے کا اندیشہ ہو تو اس پر اصرار نہ کریں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند