• معاملات >> شیئرز وسرمایہ کاری

    سوال نمبر: 607605

    عنوان:

    مضاربت کی ایک شکل اور اس کا حکم

    سوال:

    گذارش یہ ہے کہ فریق اول نے فریق دوم کو رقم مندرجہ ذیل نفع و نقصان کی شرائط پر دی. 1 فریق اول کی صرف رقم ہو گی کام نہیں کرے گا اور فریق دوم صرف کام کرے گا رقم نہیں ہو گی۔

    (۲) رقم پر حاصل شدہ منافع سے فریق اول 25 فیصد لے گا جبکہ فریق دوم 75 فیصد لے گا. 3.کاروبار میں نقصان کی صورت میں رقم یا سرمایہ کا ذمہ دار فریق دوم ہو گا اور بنیادی رقم فریق اول کو واپس کرنے کا پابند ہو گا. 4.نفع نہ آنے کی صورت میں کوء بھی فریق نفع وصول کرنے کا حقدار نہیں ہو گا یہ شرائط دونوں فریقین میں باہمی رضا مندی کی بناء پر طے ہویئں. فریق دوم نے نقصان کی صورت میں سرمایہ کی ذمہ داری اس وجہ سے لی کہ ایک تو؛ کاروبار نوعیت کے مطابق نقصان کے خدشات بہت کم ہیں دوسرا یہ کہ اگر خدانخواستہ اگر نقصان ہو جائے تو فریق دوم چونکہ منافع کا 75 فیصد لے رہا ہے لہٰذا اسکو نقصان کا ازالہ کرنے میں کوئی مشکل نہیں. جبکہ فریق اول نقصان کا خدشہ اپنے سر نہیں لینا چاہتا اس لیے وہ کم منافع پر راضی ہوا . یعنی اس نے کہا کہ مجھے منافع کم دے دو لیکن رقم کی ذمہ داری آپ لو. کیا ان شرائط پر کاروبار کی شراکت داری اسلامی نقطہ نظر سے ٹھیک ہے ؟

    جواب نمبر: 607605

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:138-33T/H-Mulhaqa=5/1443

     سوال میں مذکور سرمایہ کاری کی صورت شریعت کی اصطلاح میں عقد مضاربت ہے، اس میں رقم دینے والا رب المال اور کاروبار کرنے والا مضارب کہلاتا ہے، اور اگر مضاربت میں نقصان ہوجائے تو وہ نفع سے نکالا جاتا ہے، پھر مابقیہ نفع دونوں کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے، اور اگر نقصان نفع سے زیادہ ہو تو سرمایہ سے نکالا جاتا ہے، اور اس صورت میں کسی کو کچھ نفع نہیں ملتا؛ بلکہ رب المال کا نفع کے ساتھ کل یا بعض سرمایہ جاتا ہے اور مضارب کی محنت ضائع ہوتی ہے ، اور اگر دونوں نے کچھ نفع باہم تقسیم کرلیا ہو؛ لیکن مضاربت کا معاملہ باقی ہو، فسخ نہ کیا گیا ہو تو نقصان کی تلافی کے لیے دونوں کو وصول شدہ نفع واپس کرنا ہوگا، بہر حال کسی صورت میں نقصان مضارب پر نہیں ڈالا جاتا کہ وہ اپنی جیب سے ادا کرے، اور اگر مضارب پر نقصان کی شرط لگائی جائے تووہ شرط باطل وغیر معتبر ہوتی ہے اگرچہ مضارب راضی ہو، کاروبار میں نقصان کے امکانات برائے نام ہوں یا نقصان کی ذمے داری کی بنا پر مضارب کا حصہ بہت زیادہ رکھا گیا ہو۔

    خلاصہ یہ کہ سوال میں مذکور سرمایہ کاری میں نقصان کی شرط جو مضارب پر لگائی گئی ہے، یہ درست نہیں؛ بلکہ باطل وغیر معتبر ہے۔

    وفي الجلالیة: کل شرط یوجب جھالة في الربح أو یقطع الشرکة فیہ یفسدھا، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتباراً بالوکالة (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب المضاربة، ۸: ۴۳۳، ۴۳۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۸: ۲۲۵، ۲۲۶، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”بطل الشرط“: کشرط الخسران علی المضارب، س (رد المحتار)۔

    (وما ھلک من مال المضاربة یصرف إلی الربح)؛ لأنہ تبع، (فإن زاد الھالک علی الربح لم یضمن) ۔ ولو فاسدة من عملہ؛ لأنہ أمین، (وإن قسم الربح وبقیت المضاربة، ثم ھلک المال أو بعضہ ترادا الربح؛ لیأخذ المالک رأس المال، وما فضل فھو بینھما، وإن نقص لم یضمن) ؛ لما مر(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب المضاربة، ۸: ۴۴۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند، ۱۸: ۲۵۴، ۲۵۵، ت: الفرفور، ط: دمشق)۔

    قولہ: ”ولو فاسدة“: أي: سواء کانت المضاربة صحیحة أو فاسدة، وسواء کان الھلاک من عملہ أو لا، ح۔ قولہ: ”من عملہ“: یعني: المسلَّط علیہ عند التجار، وأما التعدي فیظھر أنہ یضمن، سائحاني۔ قولہ: ”فھو بینھما“: أي: بعد دفع النفقة۔ قولہ: ”لما مر“: من أنہ أمین؛ فلا یضمن (رد المحتار)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند