• معاملات >> شیئرز وسرمایہ کاری

    سوال نمبر: 601008

    عنوان:

    اوسموس کمپنی میں شریک ہوکر منافع کمانے کا حکم

    سوال:

    کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں {Osmose {اوسموس }ایک شیئرز کمپنی ہے اگر ہم اس کمپنی 1200 روپئے انویسٹ کرتے ہیں تو یہ کمپنی اس شرط کے سات آپ کو روزانہ 20 روپئے دیتی ہے اگر آپ اس کمپنی کا Aapیعنی software {سوفٹ وئیر}استعمال کرتے ہیں اگر جس دن آپ سوفٹ وئیر استعمال نہیں کرتے آپ کو اس دن پیسے نہیں ملیں گے (ب) اگر آپ اس کمپنی میں انویسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ کسی کو آپ کے آئی ڈی سے جوائن کراتے ہیں تو کمپنی آپ کو روزانہ 1 روپئے دے گی تو کیا اس طرح کمپنی میں پیسے انویسٹ کرانا جائز ہوگا اور جو آپ کو پیسے کمپنی سے مل رہے ہیں وہ جائز ہوں گے ؟

    جواب نمبر: 601008

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa:205-168/sn=4/1442

     انویسٹ کی جو شکل آپ نے لکھی ہے یہ متعدد شرعی قباحتوں پر مشتمل ہے مثلا مقتضائے عقد کے خلاف شرط، غرر وغیرہ ؛ لہذا اس کمپنی سے جڑ کرپیسہ کمانا شرعا جائز نہیں ہے ۔

    مستفاد: (و)لا(بیع بشرط) عطف علی إلی النیروز یعنی الأصل الجامع فی فساد العقد بسبب شرط لا یقتضیہ العقد ولا یلائمہ وفیہ نفع لأحدہما أو) فیہ نفع (لمبیع) ہو (من أہل الاستحقاق) للنفع بأن یکون آدمیا،...(ولم یجرالعرف بہ و) لم (یرد الشرع بجوازہ).[الدر المختار مع رد المحتار) 7/ 281،مطلب فی البیع بشرط فاسد، مطبوعة: مکتبة زکریا، دیوبند)(القمار)تعلیق الملک علی الخطر والمال فی الجانبین.(دیکھیں: البحرالرائق ۵۵۴/۸، مسائل فی المسابقة والقمار، والاختیار فی تعلیل المختار ،۴۵/۳، فصل العمری والرقبی، وقواعد الفقہ)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند