• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 612252

    عنوان:

    رمضان كا قضاء روزہ بلا شرعی عذرتوڑنا، رات سے روزہ کی نیت كی مگر سحری میں آنکھ نہ كھلی

    سوال:

    کیا کوئی رمضان کے قضا روزے کی نیت کر کے بلا کسی شرعی عذر کےتوڑ دے تو جائز ہے یا نہیں؟ اور کیا اس روزے پر بھی قضا یا کفارہ لازم ہوگا؟ یا رات کو سوتے وقت قضا روزے کی نیت کر لی اور سحری میں نیند نہ کھلی اور صبح میں بلا کسی شرعی عذر کے روزہ توڑ دے کیا حکم ہے؟ دونوں صورتوں کو وضاحت کر دیں۔

    جواب نمبر: 612252

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa: 941-352/D-Mulhaqa=11/1443

     (۱) رمضان کے قضاء روزے کی نیت کرکے بلا کسی شرعی عذر کے توڑنا جائز نہیں ہے؛لیکن اگرروزہ توڑدیا تو صرف قضاء واجب ہوگی ، کفارہ واجب نہیں ہوگا۔ (۲) اگر رات کو سوتے وقت قضاء روزے کی نیت کرلی اور پھر سحری میں آنکھ نہیں کھلی، تو صبح صادق کا وقت ختم ہوتے ہی روزہ شروع ہوجائے گا ، لہذا بلاکسی شرعی عذر کے روزہ توڑنا جائز نہیں ہوگا اور اگرروزہ توڑدیا تو قضا واجب ہوگی ، کفارہ واجب نہیں ہوگا ۔

    قال الحصکفی: (أو أفسد غير صوم رمضان أداء) لاختصاصها بهتك رمضان ۔ قال ابن عابدین: (قوله: أداء) حال من صوم وقيد به لإفادة نفي الكفارة بإفساد قضاء رمضان لا لنفي القضاء أيضا بإفساده۔ ( الدر المختار مع رد المحتار: ۲/۴۰۴، دار الفکر، بیروت )قال الکاسانی:وأما وجوب الكفارة فيتعلق بإفساد مخصوص وهو الإفطار الكامل بوجود الأكل أو الشرب أو الجماع صورة ومعنى متعمدا من غير عذر۔(بدائع الصنائع: ۲/۹۸، دارالکتب العلمیۃ، بیروت ) ووقت النية كل يوم بعد غروب الشمس، ولا يجوز قبله كذا في محيط السرخسي۔ (الفتاوی الہندیۃ: ۱/۱۹۵، دار الفکر، بیروت ) یستفاد: ولو نوی من اللیل ثم رجع عن نیتہ قبل طلوع الفجر صح رجوعہ في الصیامات کلہا کذا في السراج الوہاج ۔ (الفتاوی ا،لہندیۃ : ۱/۱۹۵،کتاب الصوم،دار الفکر، بیروت)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند