• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 60689

    عنوان: تراویح ختمِ قرآن

    سوال: مسجد میں تراویح میں ختمِ قرآن والی رات میں شیرنی کے نام سے چندہ کرنا کیسا ہے ؟نیز ان پیسوں میں سے امام یا مؤذن اور تالی امام و سامع مؤذن کوبھی پیسا دینا کیسا ہے ؟

    جواب نمبر: 60689

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 671-537/Sn=10/1436-U اگر یہ چندہ واقعةً ”شیرینی“ کے لیے ہوتا ہے تو یہ رسم ہے جو قابل ترک ہے، اگر مقصود حافظ وسامع کو معاوضہ دینے کے لیے چندہ کرنا ہے تو اس طرح کا چندہ کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، فقہاء نے نماز میں قرآن کریم سنانے یا سننے پر معاوضہ کے لین دین کو ناجائز لکھا ہے؛ اس لیے اس مقصد سے چندہ کرنا بھی جائز نہیں ہے اور نہ ہی حافظ اور تالی کو معاوضہ دینا جائز ہے، اگر امام وموٴذن کی خدمت کرنی ہے تو انھیں ختم قرآن کے دن کے بہ جائے کسی اور موقع پر دیدیں؛ بلکہ بہتر ہے کہ ان کی ماہانہ تنخواہوں میں مناسب اضافہ کردیا جائے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند