• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 58846

    عنوان: مجھے تیزابیت اورگیس نیز نظام ہظم سے متعلق دوسرے مسائل درپیش ہیں

    سوال: مجھے تیزابیت اورگیس نیز نظام ہظم سے متعلق دوسرے مسائل درپیش ہیں جو کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں نہیں آتاہے ، شاید انسٹینٹائن (آنت)میں ورم اور زخم جیسا کچھ ہے۔ ڈاکٹر ہر چار پانچ گھنٹے میں کچھ نہ کچھ کھانے کو کہتے ہیں ۔ تین چار سال سے رمضان کے روزے بھی میں بہت مشکل سے رکھ سکتی ہوں ۔رمضان میں پیٹ کی گرمی کی وجہ سے پندرہ دن پاکی (طہارت) کے نکل حیض بھی جلدی آجاتاہے تو ہر سال 12-14روزے حیض کی وجہ سے چھوٹ جاتے ہیں۔ ہندوستان کے دیوبندی مسلک کے دارالعلوم کے معزز شیخ الحدیث سے 10-12سال سے جادو کا علاج بھی چل رہا ہے، ایلوپیتھی ، ہومیوپیتھی ، ایورویدک ، یونانی ، گھریلو علاج ، سب دوا کرکے دیکھی۔ بعد میں رمضان کے روزے قضا کرنے کی کوشش کرتی ہوں تو پھر سے تیزابیت ہوکے پیٹ کا درد شروع ہوجتاہے جو ایک دو مہینے تک مسلسل رہتاہے، ابھی تو چھ مہینوں سے مسلسل ہے ، اسی طرح ہر سال میرے قضا روزے بڑھتے ہی جارہے ہیں جس کا مجھے بہت ہی صدمہ اور ٹینشن ہوتاہے ، اس کی وجہ سے میری طبیعت پہ برا اثر پڑتاہے ، ڈاکٹر نے مجھے بالکل بھی صدمہ/ٹینشن نہیں کرنے کو کہا ہے، میں صدمہ/ٹینشن کی دوائی بھی لیتی ہوں ۔ میں ہندوستانی نژاد امریکی شہری ہوں، کچھ روز میں ہندوستان رہتی تھی تب کے قضا ہیں اور کچھ یہاں آنے کے بعد روزے قضا ہوئے ہیں۔ اب میرا سوال یہ ہے کہ: (۱) کیا میں اپنے کچھ قضا روزے کا کفارہ دے سکتی ہوں تاکہ میرے دل کو کچھ سکون ہو؟ (۲) ان شاء اللہ میں قضا روزے رکھنے کی پوری کوشش کروں گی جب بھی میری طبیعت اچھی ہوجائے، لیکن شاید نہیں رکھ سکی تو کیا میرے مرنے کے بعد ان روزوں کا پھر سے کفارہ دینا پڑے گا؟ (۳) کیا ایک مضان کے قضا روزوں کا کفارہ 1.769 کلو گیہوں ہے؟ (۴) یہاں تو کسی کو گیہوں نہیں دے سکتے تو میں ہندوستان میں دینا چاہتی ہوں، ہندوستان میں گیہوں کی جو قیمت ہے، اس کے مطابق گیہوں ہندوستان میں خرید کر ہندوستان میں ہی مسکین کو دے سکتی ہوں؟ یا مجھے امریکہ میں 1.769 کلو کی جو قیمت ہے ، اس قیمت سے گیہوں ہندوستان سے خرید کرکے دینے ہوں گے (میں یہاں ملازمت نہیں کرتی )۔ (۵)اگر گیہوں کی قیمت دوں تواس کو کیسے شمار کرنی ہوگی امریکہ کے حساب سے یا ہندوستان کے حساب سے ؟ (۶) یہ کفارہ مسکین کو یعنی کہ جو زکاة ، صدقہ لے اس کو دینا ہے یا جو زکاة ، صدقہ نہیں لے سکتا اس کو بھی دے سکت ہیں؟

    جواب نمبر: 58846

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 588-581/N=7/1436-U (۱-۶)

    اگر آپ دس پندرہ روز کے وقفہ کے ساتھ ایک ایک روزہ کی قضا کرسکتی ہیں، یعنی: اس صورت میں نئی بیماری کے پیدا ہونے یا پہلے سے موجود بیماری کے بڑھنے یا دیر میں ختم ہونے کا ظن غالب کے درجہ میں اندیشہ وخطرہ نہیں ہے تو آپ اس طرح آہستہ آہستہ چھوٹے ہوئے تمام روزوں کی قضا کرلیں۔ اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہو یعنی: اس صورت میں بیماری پیدا ہونے یا بڑھنے یا دیر میں ختم ہونے کا قوی اندیشہ ہو تو چوں کہ آپ کی بیماری بظاہر مایوس کن نہیں ہے؛ بلکہ اس بیماری سے شفا اور صحت یابی کی قوی امدی ہے؛ اس لیے ابھی آپ کو روزوں کا فدیہ ادا کرنے کی اجازت نہ ہوگی، آپ علاج کراتی رہیں اور دعا بھی کرتی رہیں اور صحت یابی کے بعد چھوٹے ہوئے تمام روزوں کی قضا کریں،اور اگر خدانخواستہ صحت یابی سے پہلے انتقال ہوگیا اور آپ کو روزوں کی قضا کا موقعہ ہی نہیں ملا تو آپ کے ذمہ فدیہ وغیرہ کچھ نہ ہوگا، البتہ اگر آپ کو صحت یابی کے بعد کچھ روزوں کی قضا کا موقعہ ملا لیکن آپ نے غفلت وسستی کی وجہ سے ان کی قضا نہیں کی تو آپ پر ان روزوں کے فدیہ کی وصیت ضروری ہوگی۔ ”لمسافر․․․ أو مریض خاف الزیادة لمرضہ وصحیح خاف المرض․․․ الفطر․․․، وقضوا لزومًا ما قدروا بلا فدیة إلخ فإن ماتوا فیہ أی: في ذلک المرض فلا تجب علیہم الوصیة بالفدیة لعدم إدراکہم عدة من أیام أخر،ولو ماتوا بعد زوال العذر وجبت الوصیة بقدر إدراکہم عدة من أیام أخر (درمختار مع الشامي: ۳/۴۰۳-۴۰۶ مطبوعہ مکتبة زکریا دیوبند) قولہ: ”خاف الزیادة“ أو إبطاء البرء أو فساد عضو، بحر أو وجع العین أوجراحة أو صداعًا أو غیرہ الخ قولہ: وصحیح خاف المرض“ أي: بغلبة الظن کما یأتي (شامی) أما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ أن یفطر ویقضیہ في الشتاء فتح ․․․، ثم عبارة الکنز: ”وہو یفدي“ إشارة إلی أنہ لیس علی غیرہ الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فیجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصیة بالفدیة․ (شامي: ۳/۴۱) وقال قبلہ: ومثلہ - مثل الشیخ الفاني- ما في القہستاني عن الکرماني المریض إذا تحقق الیأس من الصحة فعلیہ الفدیة لکل یوم من المرض اھ وکذا ما في البحر: لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغالہ بالمعیشة لہ أن یطعم ویفطر لأنہ استقین أنہ لا یقدر علی القضاء، قولہ: ”العاجز عن الصوم“ أي: عجزًا مستمرًا․ (شامي)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند