• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 47455

    عنوان: تراویح میں بغیر قعدہ اخیرہ کئے چار رکعت پڑھنا

    سوال: کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام درج ذیل صورت مسئولہ میں تراویح کی نماز میں قاری صاحب نے دوسری رکعت کے قعدہ میں بیٹھنے کے بجائے سجدہ سے براہ راست تیسری رکعت میں چلے گئے۔ایک ساتھ چار رکعت کے بعد قعدہ میں سجدہ سہو کروادیا۔ پھر اعلان کردیا کے یہ تراویح کی چار رکعت ہوگی۔ اول جب کہ ہم نے عام نمازوں کے متعلق پڑھا ہے کہ قعدہ آخرہ جو فرض ہے اگر رہ جائے تو سجدہ سہوسے اس کی تلافی ممکن نہیں بلکہ اس کا اعادہ ضروری ہے۔ دوم اگر اصل نماز سے زائد رکعت پڑھ لی جائے تو اسے نفل سمجھا جاتا ہے۔ قرآن وسنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں صورت مسئولہ میں کیا رہنمائی موجود ہے، کیا ان چار رکعت کی قضا ہوگی؟ اگر ممکن ہو تو فوری جواب سے رہنمائی فرمادیں

    جواب نمبر: 47455

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1326-323/H=10/1434 صورتِ مسئولہ میں پہلی دو رکعت فاسد ہوگئیں آخری دو رکعت درست ہوگئیں، پہلی دو رکعت میں پڑھا ہوا قرآنِ کریم اسی دن کی تراویح میں اور اگر اس دن کی تراویح میں نہ ہوسکے تو اگلے دن کی تراویح میں لوٹالیں، اصل یہ ہے کہ دو رکعت پر جب قعدہ نہ کیا اور تیسری رکعت کا سجدہ کرلیا تو راجح یہ ہے کہ شفعہٴ اولی فاسد ہوگیا، مگر شفعہٴ ثانیہ کی بناء کے حق میں تحریمہ باقی رہتا ہے یعنی دوسرے شفعہ کی بناء صحیح ہوجاتی ہے، فتاوی قاضی خان فتاوی بحر الرائق وغیرہ میں تفصیل سے ایسا ہی ثابت ہے، جب شفعہٴ ثانیہ کی بنا صحیح ہوگئی تو اس کی ادائیگی بھی درست ہوئی، اب جب کہ رمضان المبارک گذرگیا تو شفعہٴ اولی یعنی پہلی دو رکعت تراویح کی جو فاسد ہوئی تھیں ان کو فرداً فرداً بہ نیت قضاء لوٹالی جائیں اگر دو رکعت پر قعدہ کرکے پھر امام صاحب کھڑے ہوتے اور چار رکعت پوری کرلیتے تو چاروں رکعات درست ہوجاتیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند