• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 47308

    عنوان: میرے والدین بیمار رہتے ہیں روزہ نہیں ركھ سكتے

    سوال: میرے والد اور والدہ بیمار ہیں اور وہ روزہ نہیں رکھ سکتے تو اب مجھے اس روزے کے بدلے میں جو رقم نکالنی ہوتی ہے وہ کیا کہلاتی ہے اور اسے للہ نکالی جاتی ہے اور کیا حساب ہے اس کا ؟براہ کرم، جلد جواب دیں۔

    جواب نمبر: 47308

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1231-828/L=11/1434-U اگر آدمی اس عمر کو پہنچ جائے کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتا تو روزہ نہ رکھنے کی وجہ سے جو رقم نکالی جاتی ہے وہ فدیہ کی رقم کہلاتی ہے اور فدیہ کی مقدار نصف صاع (تقریباً پونے دو کلو) گندم یا اس کی قیمت ہے، واضح رہے کہ فدیہ کا حکم اسی صورت میں ہے جب کہ آدمی پر روزہ کی قضا ممکن نہ ہو یعنی وہ اتنا معذور ہو کہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو۔ اگر آپ کے والدین اس حالت میں ہیں کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں روزہ کی قضا کرسکتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ روزہ کی قضا کریں ان کے لیے فدیہ دینے کا حکم نہیں ہے۔ اور اگر اتنے معذور وبیمار ہوچکے ہیں کہ وہ سال کے چھوٹے دنوں میں بھی روزہ نہیں رکھ سکتے تو ان کے لیے فدیہ دینے کی اجازت ہوگی، فدیہ دینے کے بعد بھی اگر روزہ رکھنے کی طاقت ہوجاتی ہے تو فدیہ دینا لغو ہوجائے گا اور روزہ کی قضا لازم ہوجائے گی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند