• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 41155

    عنوان: كیا روزے میں دانتوں سی خون نكلنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

    سوال: مجھے چند برسوں سے یہ مرض لاحق ہے کہ روزانہ وقتاً فوقتاً میرے دانتوں سے اچانک خون نکلنے لگتا ہے۔ اور یہ کبھی تھوک کی مقدار سے کم ہوتا ہے اور کبھی تھوک کی مقدار پر غالب بلکہ خُوب غالب۔ ایسی صورتحال پورے دن کے عام اوقات میں عموماً جب کہ نیند سے بیداری کے وقت خصوصاً زیادہ پیش آتی ہے۔ جس وقت کہ نیم بیداری کا عالم ہوتا ہے، قویٰ پوری طرح متحرک نہیں ہوتے اور خون والا تھوک پیٹ میں چلے جانے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ نیز اس کے علاوہ بھی بسا اوقات ایسی صورت پیش آجاتی ہے کہ فوری طور پر تھوک پھینکا نہیں جاسکتا۔ یا خون اتنا اچانک نکلتا ہے کہ جب اس کی آمیزش والا تھوک حلق سے ہوکر پیٹ کی طرف جاتا ہے تب ہی خون کا احساس ہوتا ہے۔ الغرض یہ کہ خون کو پیٹ میں جانے سے روکنا خاصا مشقت والا کام اور کبھی کبھی تو ناممکن ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ ایک دفعہ کے بعد دوسری دفعہ خون نکلنے کے درمیان اچھا خاصا وقت گزر جاتا ہے۔ یعنی نماز کے اعتبار سے تو میں معذور نہیں بنتا۔ اب اس تمام مذکورہ صورتحال میں میرے روزے کا کیا حکم ہے؟

    جواب نمبر: 41155

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 898-897/N=10/1433 دانتوں سے نکلنے والا خون اگر تھوک پر غالب یا اس کے برابر ہو یا حلق میں خون کا ذائقہ محسوس ہو تو حلق کے نیچے اترجانے سے آپ کا روزہ ٹوٹ جائے گا، اس لیے آپ اوپر ذکر کردہ تینوں صورتوں میں تھوک نگلنے سے پرہیز کریں اور چونکہ آپ کو نیند سے بیداری کے وقت یہ صورت عموماً پیش آتی ہے اس لیے اس وقت کا تھوک نگلنے سے بطور خاص پرہیز کریں۔ کذا في الدر والرد (کتاب الصوم باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ: ۳/۳۶۸، ۳۹۴، ط: مکتبة زکریا دیوبند) اللہ تعالیٰ آپ کو شفا عنایت فرمائیں۔ آمین


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند