• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 40570

    عنوان: عبادت كے ليے نصف شعبان كى رات مخصوص كرنا

    سوال: کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ شعبان کے مہینے میں شب قدر میں جاگنا اور عبادت کرنا بدعت ہے؟ ار روزہ رکھنا بھی؟میں آپ سے اسکے بارے میں تفصیل سے جاننا چاہتا ہوں۔ شب قدر کی رات جاگنا بدعت نہیں تو اسکے کیا کیا فائیدے ہیں ؟

    جواب نمبر: 40570

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1660-1282/B=9/1433 قرآن پاک میں اس رات کو مبارک رات اور فیصلہ کی رات فرمایا گیا ہے، احادیث میں اگرچہ وہ ضعیف ہیں، رات میں جاگنا یعنی نوافل اور دیگر عبادات کرنا، بنوکلب کی بکریوں کے بالوں کے برابر لوگوں کی مغفرت، دعاکرنے کا ذکر اور دعا کی قبولیت کا ذکر آتا ہے اور شراب کے عادی، بول چال بند رکھنے والوں کی دعا کا اور ٹخنے سے نیچے لنگی پاجامہ لٹکانے والوں کی دعا کا قبول نہ ہونا، پندرہویں کو روزہ رکھنا یہ سب احادیث میں آیا ہے۔ وہ امور جن کا ذکر قرآن واحادیث میں ہو تو اسے بدعت نہیں کہا جاسکتا، ہاں ایسے حکم کو ضروری بھی نہیں کہا جاسکتا، لہٰذا حاصل یہ نکلا کہ یہ اعمال بہتر ہیں اگر کوئی کرے گا اجر وثواب کا مستحق ہوگا، جو نہیں کرے گا اس کی اللہ کے یہاں کوئی پکڑ نہ ہوگی۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند