• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 40105

    عنوان: حمل كی وجہ سے روزہ نہ ركھنا؟

    سوال: ایک عورت حمل کی وجہ سے رمضان کے روز ے نہ رکھ سکی، پھر جب بچہ پیدا ہو گیا تو اس بچے کو دودھ دینے کی وجہ سے پوریسال تک ان کا قضا نہ لوٹا سکی، اب رمضان شروع ہونے میں ڈیڑھ ماہ باقی ہے پر وہ اب بھی روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہے، اب اس صورت میں اس عورت کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا وہ پورے رمضان کے روزوکا فدیہ دیگی یا کفارہ ادا کریگی اور یا پھر اپنے صحت مند ہونے کا انتظار کریگی اور اگلے سال قضا لوٹائیگی؟ شکریہ

    جواب نمبر: 40105

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 554-534/N=8/1433 سوال میں مذکور عورت کے لیے ابھی فدیہ ادا کرنے کی گنجائش نہیں، اس پر روزوں کی قضا متعین ہے، لہٰذا اسے چاہیے کہ صحت مند ہونے اور روزوں پر قادر ہونے کا انتظار کرلے، جب وہ روزہ رکھنے کے قابل ہوجائے تو چھوٹے ہوئے تمام روزوں کی قضا کرے، یستفاد ذلک مما في رد المحتار (کتاب الصوم، ۳: ۴۱۰، ط: زکریا دیوبند): أما لو لم یقدر علیہ لشدة الحر کان لہ أن یفطر ویقضیہ في الشتاء فتح إھ


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند