• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 26181

    عنوان: کیا فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تراویح کتنی رکعات پڑھی جاتی تھی؟ اور کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تہجد کی نماز پڑھتے تھے؟

    سوال: کیا فرماتے ہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تراویح کتنی رکعات پڑھی جاتی تھی؟ اور کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں تہجد کی نماز پڑھتے تھے؟

    جواب نمبر: 26181

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل): 1621=457-11/1431

    رمضان المبارک میں تین دن تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تراویح پڑھانا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، اور بعض روایات سے بیس رکعات تراویح کی نسبت بھی خود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صراحتاً ثابت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک لوگوں کو تراویح پڑھائی پھر لوگوں کے شدت ذوق وشوق کو دیکھ کر اس اندیشہ سے پڑھنا ترک فرمادیا کہ کہیں فرض نہ ہوجائے کہ لوگوں کو مشقت ہوگی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ کے دور خلافت میں داخلی اور خارجی فتنوں کی کثرت اورمدت خلافت کی قلت کی بنا پر اس سنت عظیمہ کے قیام کا موقع نہ مل سکا، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں اس سنت کو جو عارض کی بنا پر موقوف تھی لیکن اب وہ عارض چونکہ باقی نہیں رہا تھا اس لیے جاری فرمادیا۔ ملا علی قاری علامہ طیبی کے حوالہ سے نقل کرتے ہیں: وإن کانت لم تکن في عہد أبي بکر رضي اللہ عنہ فقد صلاہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وإنما قطعہا أشفاقًا من أن تفرض علی أمتہ و کان عمر ممن تنبہ علیھا وسنہا علی الدوام فلہ أجرہا وأجر من عمل بہا إلی یوم القیامة ”اگرچہ تراویح باجماعت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں نہیں تھی لیکن چونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھا تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں میں تھے جو اس حقیقت سے باخبر تھے، انھوں نے دائمی طور پر جاری فرمادیا تو انھیں اس کا بھی اجر ہے اور قیامت تک جو لوگ عمل کرتے رہیں گے ان کا بھی اجر ہے (مرقات) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دورخلافت میں تراویح بیس رکعت کے ساتھ باجماعت جاری فرمایا، موطا امام مالک میں ہے: کان الناس یقومون في زمان عمر بن الخطاب -رضي اللہ عنہ- في رمضان بثلاث وعشرین رکعة کہ لوگ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے زمانے میں رمضان المبارک میں ۲۳/ رکعتیں پڑھتے تھے (بیس تراویح کی اور تین رکعات وتر کی) اور یہ بات بھی محقق ہے کہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے اور ان کی وفات کے بعد تک تمام صحابہٴ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس پر عمل رہا، ان کا اختلاف نہ کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ یقیناً ان حضرات کی نگاہوں میں اس کے مآخذ اور دلائل رہے ہوں گے کیونکہ صحابہ کرام کسی منکر اور بدعت بات پر جمع ہونے والے نہیں تھے، بلکہ وہ حضرات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال وافعال دیکھ کر اس کی نقل کرنے والے تھے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی لکھتے ہیں: أما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فکان یتوضأ فیری الصحابة وضوء ہ فیأخذون بہ من غیر أن یبین أن ہذا رکن وذلک أدب وکان یصلي فیرون صلاتہ فیصلون کما رأوہ یصلي وحج فرمق الناس حجہ ففعلوا کما فعلوہ رہا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد مبارک تو آپ وضو فرماتے تھے اور صحابہ آپ کے وضو کو دیکھ کر اس پر عمل کرتے تھے، بغیر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریح کے کہ یہ رکن ہے، وہ مستحب ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے پس صحابہٴ کرام جس طرح آپ کو نماز پڑھتا ہوا دیکھتے تھے خود بھی نماز پڑھتے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا، پس لوگوں نے بھی دیکھ کر ویسے ہی افعال حج ادا کیے جیسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیے (حجة اللہ البالغہ) مدینہ کے حضرات چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اعمال کو دیکھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے والے تھے اسی بنیاد پر امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک تعامل اہل مدینہ بھی دلیل شرعی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے اب تک شرقاً غرباً بشمول حرمین شریفین کے امت کا اس پر عمل ہے، اب مزید دلائل کی تلاش لغو اور ضائع کام میں اپنے آپ کو مصروف کرنے کے مرادف ہے۔
    (۲) جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بھی تہجد کی نماز پڑھتے تھے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند