• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 25958

    عنوان: ایک سلفی امام نے حدیث بیان کی (ابوداؤد ، حدیث نمبر 126/، راوی ابو ایوب) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وتر کے ساتھ پانچ رکعات پڑھی اس طرح کہ چار رکعات میں آپ قعدہ الاولی میں بیٹھے اور تشہد پڑھنے کے بعد پھر پانچویں رکعت پوری کرکے سلام پھیرے ؟ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟کیا اس پر عمل کیا جاسکتاہے؟ 
    (۲) گھر میں میری بیوی کے پاس پہننے کے زیورات ہیں، اس کی زکاة نکال دی ،کیااس پر قربانی بھی واجب ہے؟

    سوال: ایک سلفی امام نے حدیث بیان کی (ابوداؤد ، حدیث نمبر 126/، راوی ابو ایوب) کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں وتر کے ساتھ پانچ رکعات پڑھی اس طرح کہ چار رکعات میں آپ قعدہ الاولی میں بیٹھے اور تشہد پڑھنے کے بعد پھر پانچویں رکعت پوری کرکے سلام پھیرے ؟ کیا یہ حدیث صحیح ہے؟کیا اس پر عمل کیا جاسکتاہے؟ 
    (۲) گھر میں میری بیوی کے پاس پہننے کے زیورات ہیں، اس کی زکاة نکال دی ،کیااس پر قربانی بھی واجب ہے؟

    جواب نمبر: 25958

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ھ): 2314=725-10/1431

    حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ابوداوٴد شریف میں اس طرح ہیں: الوتر حق علی کل مسلم فمن أحب أن یوتر بخمس فلیفعل․ أخرجہ أبوداوٴد (کتاب الوتر/ باب کم الوتر؟) حدیث نمبر 1422 یعنی جو پانچ رکعت کے ساتھ وتر پڑھنی چاہے وہ پانچ پڑھ لے، جو تین رکعت کے ساتھ وتر پڑھنی چاہے وہ تین رکعت پڑھ لے، اور جو ایک رکعت پڑھنی چاہے وہ ایک پڑھ لے۔ اس لیے آپ نے رمضان میں وتر کے ساتھ نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق جو سوال کیا ہے، پہلے آپ اس حدیث کے الفاظ نقل کرکے بھیجیں اس کے بعد ان شاء اللہ اس کا جواب دیدیا جائے گا۔
    (۲) اگر آپ کی اہلیہ صاحب نصاب ہیں توان پر بھی قربانی واجب ہے۔ حدیث میں ہے: من کان لہ مال فلم یضح فلا یقربن مصلانا، أخرجہ الحاکم في ا لمستدرک (۴/۲۳۲) وصححہ ووافقہ الذہبي․


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند