• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 25794

    عنوان: میں جرمنی میں رہ رہا ہوں، ہمارے یہاں کچھ مساجد ہیں جس میں تراویح کی نماز پڑھی جار ہی ہے، اس میں پہلی دس رکعات میں ’ الم ترا‘ سے ’قل اعوذ بر ب الناس‘ تک سورتیں پڑھی جاتی ہیں اور پھر اس کو آخری دس رکعتوں میں دہرائے جاتے ہیں، نیز امام حضرات بھی اکثر بے ریش ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ کیا میں اپنے گھر پر تراویح پڑھ سکتاہوں ؟ کیا مذکورہ بالا حالات کے تحت اس کی اجازت ہے؟

    سوال: میں جرمنی میں رہ رہا ہوں، ہمارے یہاں کچھ مساجد ہیں جس میں تراویح کی نماز پڑھی جار ہی ہے، اس میں پہلی دس رکعات میں ’ الم ترا‘ سے ’قل اعوذ بر ب الناس‘ تک سورتیں پڑھی جاتی ہیں اور پھر اس کو آخری دس رکعتوں میں دہرائے جاتے ہیں، نیز امام حضرات بھی اکثر بے ریش ہیں۔ براہ کرم، بتائیں کہ کیا میں اپنے گھر پر تراویح پڑھ سکتاہوں ؟ کیا مذکورہ بالا حالات کے تحت اس کی اجازت ہے؟

    جواب نمبر: 25794

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(تل): 1517=440-9/1431

    اگر کسی جگہ حافظ میسر نہ ہو جو تراویح میں قرآن سنائے تو مذکورہ بالا طریقہ پر ”الم تر کیف“ سے بھی تراویح کی نماز پڑھی جاسکتی ہے، اور جب مساجد میں تراویح کا انتظام ہے تو کوشش آپ یہی کریں کہ ایسی مسجد جاکر نماز ادا کریں، جس کا امام متبع سنت ہو اور اگر ایسی کوئی مسجد نہ ہو تو داڑھی منڈانے والے امام کی اقتداء ہی میں تراویح ادا کرلیں، گھر پر تراویح نہ پڑھیں، البتہ اگر کوئی حافظ ہو تو اس کے لیے اس کی اجازت ہے کہ عشاء کی نماز باجماعت مسجد میں ادا کرکے چند لوگوں کے ساتھ تراویح گھر پر ادا کرلے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند