• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 17832

    عنوان:

    جلد از جلد جواب دیں میں بہت پریشان ہوں۔ اگر کوئی مرد رمضان کے روزے کے دوران عورت سے ملاقات کرلے جس کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے اور زبردستی مرد کی جانب سے ہو تو میں نے کتاب میں پڑھا ہے (بہشتی زیور) کہ مرد کفارہ ادا کرے عورت نہیں؟ مہربانی کرکے بتادیں کہ کفارہ کیا ہوگا؟ اور اگر کھانے کھلانے کی صورت میں ہے تو کل رقم کتنی بنے گی؟

    سوال:

    جلد از جلد جواب دیں میں بہت پریشان ہوں۔ اگر کوئی مرد رمضان کے روزے کے دوران عورت سے ملاقات کرلے جس کی وجہ سے روزہ ٹوٹ جائے اور زبردستی مرد کی جانب سے ہو تو میں نے کتاب میں پڑھا ہے (بہشتی زیور) کہ مرد کفارہ ادا کرے عورت نہیں؟ مہربانی کرکے بتادیں کہ کفارہ کیا ہوگا؟ اور اگر کھانے کھلانے کی صورت میں ہے تو کل رقم کتنی بنے گی؟

    جواب نمبر: 1783201-Sep-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(د):2156=1718-12/1430

     

    کفارہ کی تفصیل بھی بہشتی زیور میں لکھی ہوئی ہے، خلاصہ یہ کہ علاوہ اس ایک روزہ کی قضا کے لگاتار 60 ساٹھ روزے رکھے۔ ایک دن بھی درمیان میں ناغہ نہ ہو ورنہ پھر سے رکھنا پڑے گا، جو شخص روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، وہ ساٹھ مسکینوں کو دونوں وقت پیٹھ بھر کر کھانا کھلادے، یا خشک غلہ ایک کلوچھ سو تینتیس گرام (1.633kg) کے حساب سے ساٹھ مسکینوں کو دیدے یا اس کی قیمت ساٹھ مسکینوں کو دیدے۔ ایک ساتھ کل قیمت یا غلہ ایک ہی مسکین کو دینے سے کفارہ ادا نہ ہوگا، لہٰذا اگر کسی مدرسہ وغیرہ میں دیں تو بتلادیں کہ یہ کفارہ کی رقم ہے، تاکہ مدرسہ والے ساٹھ مسکینوں پر اسے تقسیم کردیں یا ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن تک دیتے رہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند