• عبادات >> صوم (روزہ )

    سوال نمبر: 16978

    عنوان:

    میں نے اور میرے شوہر نے روزہ کی حالت میں جماع کرلیا ایک ہی رمضان میں کئی بار۔ پھر اگلے سال رمضان آیا تو بھی یہی غلطی ہوئی۔ اس تیسرے رمضان میں میرے شوہر میرے پاس آئے تھے مگر میرے کپڑے نہیں اتارے۔ بہت کوشش کی روکنے کی مگر وہ عضو خاص کو اوپر ہی سے ٹچ کرتے رہے۔ بالکل بھی اندر تو نہیں جاسکے وہ مگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ مجھے انزال ہوگیا ہے۔ مجھے کبھی بھی آج تک جنسی جماع کے دوران یا بعد میں ایک قطرہ بھی نہیں آتا تھا یعنی کوئی سیال باہر نہیں آتا میرے اندر سے۔ اس بار بھی نہیں آیا مگر مجھے کچھ اچھا سا ایک سیکنڈ کے لیے محسوس سا ہوا اور وہ ختم ہوگیا۔ میرے محدود علم کے مطابق میرا روزہ ٹوٹ گیا اور میں نے پانی پی لیا۔ آپ برائے کرم بتادیجئے (۱)کیا مجھے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے ہوں گے؟ ...

    سوال:

    میں نے اور میرے شوہر نے روزہ کی حالت میں جماع کرلیا ایک ہی رمضان میں کئی بار۔ پھر اگلے سال رمضان آیا تو بھی یہی غلطی ہوئی۔ اس تیسرے رمضان میں میرے شوہر میرے پاس آئے تھے مگر میرے کپڑے نہیں اتارے۔ بہت کوشش کی روکنے کی مگر وہ عضو خاص کو اوپر ہی سے ٹچ کرتے رہے۔ بالکل بھی اندر تو نہیں جاسکے وہ مگر مجھے یہ محسوس ہوا کہ مجھے انزال ہوگیا ہے۔ مجھے کبھی بھی آج تک جنسی جماع کے دوران یا بعد میں ایک قطرہ بھی نہیں آتا تھا یعنی کوئی سیال باہر نہیں آتا میرے اندر سے۔ اس بار بھی نہیں آیا مگر مجھے کچھ اچھا سا ایک سیکنڈ کے لیے محسوس سا ہوا اور وہ ختم ہوگیا۔ میرے محدود علم کے مطابق میرا روزہ ٹوٹ گیا اور میں نے پانی پی لیا۔ آپ برائے کرم بتادیجئے (۱)کیا مجھے دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے ہوں گے؟ (۲)کیا مجھے تین کفارے دینے ہوں گے، یا ایک ہی کافی ہو جائے گا؟ (۳)کیا اس طرح کرنے سے میرا روزہ ٹوٹ گیا تھا یا میں نے پانی پی کر غلطی کی؟ اس تیسرے رمضان کا بھی کفارہ بنتا ہے یا نہیں؟ (۴)اگر توبہ کرلوں جو کہ میں کرچکی ہوں تو کیا پھربھی یہ سب کا کفارہ دینا ہوگا؟ یا معاف ہوجائے گا؟ (۵)میرا اور میرے شوہر کا کفارہ اور قضا الگ الگ برائے کرم بتادیں ،بہت پریشان ہوں؟ والسلام

    جواب نمبر: 16978

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی(ل):1820=379tl-12/1430

     

    (۱) آپ پر صرف اس روزے کی قضا ہے روزہ توڑنے کی وجہ سے کفارہ نہیں ہے۔

    (۲) آپ پر پہلے دو رمضانوں کے دو کفارے واجب ہوگئے، تیسرے رمضان کا کفارہ نہیں۔

    (۳) روزہ جماع کے علاوہ میں خروج منی سے ٹوٹتا ہے، پس اگر منی باہر نہیں آئی تھی تو آپ کا روزہ برقرار تھا، آپ نے پانی پی کر غلطی کی اس سے روزہ ٹوٹ گیا، البتہ اس کی وجہ سے تیسرے رمضان کا کفارہ آپ پر واجب نہیں۔

    (۴) محض توبہ کرلینے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا، بلکہ توبہ بھی اسی وقت مقبول ہے جب کہ روزہ کا کفارہ ادا کیا جائے۔

    (۵) آپ دونوں پر دو رمضانوں کا دو کفارہ واجب ہے،اور روزے کی حالت میں جتنی بار صحبت ہوئی اتنے روزوں کی قضا ضروری ہے۔ ایک روزے کا کفارہ مسلسل ساٹھ روزے رکھنا اور اگر اس کی وسعت نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند