• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 8495

    عنوان:

    میں ظہر میں عموماً آفس میں چار رکعت فرض ادا کرتا ہوں اور فرض کے بعد دو رکعت سنت۔ کیا میں درست ہوں؟ لیکن چھٹیوں میں فرض سے پہلے میں چار رکعت سنت کا اضافہ کرتا ہوں۔ برائے کرم اس کی وضاحت فرماویں۔ میں فجر میں مسجد میں گیا میں نے دیکھا کہ امام صاحب فرض پڑھا رہے ہیں اور میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور فرض مکمل کیا (جیسا کہ میں حدیث جانتا ہوں کہ جب امام صاحب فرض نماز پڑھارہے ہوں تو کوئی بھی نماز نہیں پڑھی جائے گی)۔ اب کیا میں فرض نماز کے بعددورکعت سنت نماز پڑھ سکتا ہوں؟

    سوال:

    میں ظہر میں عموماً آفس میں چار رکعت فرض ادا کرتا ہوں اور فرض کے بعد دو رکعت سنت۔ کیا میں درست ہوں؟ لیکن چھٹیوں میں فرض سے پہلے میں چار رکعت سنت کا اضافہ کرتا ہوں۔ برائے کرم اس کی وضاحت فرماویں۔ میں فجر میں مسجد میں گیا میں نے دیکھا کہ امام صاحب فرض پڑھا رہے ہیں اور میں ان کے ساتھ شامل ہوگیا اور فرض مکمل کیا (جیسا کہ میں حدیث جانتا ہوں کہ جب امام صاحب فرض نماز پڑھارہے ہوں تو کوئی بھی نماز نہیں پڑھی جائے گی)۔ اب کیا میں فرض نماز کے بعددورکعت سنت نماز پڑھ سکتا ہوں؟

    جواب نمبر: 849531-Aug-2020 : تاریخ اشاعت

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1377=1153/ل

     

    آفس میں بھی آپ پہلے چار رکعت سنت ادا کرلیا کریں، پھر فرض اور دو رکعت سنت پڑھیں وفي فتاویٰ سمرقند: وقد قال بعض مشائخنا لہ أن یوٴدي السنة أیضًا واتفقوا أنہ لا یوٴدي نفلاً وعلیہ الفتوی (شامي: 9/512 ط زکریا دیوبند)

    (۲) اگر فجر کی ایک رکعت ملنے کی اور دوسرے قول کے مطابق تشہد ملنے کی امید ہو اور مسجد سے باہر کوئی جگہ ہو تو وہاں یا صفوں سے دور ستون کے پیچھے سنت ادا کرکے پھر جماعت میں شریک ہوں، ہکذا في کتب الفقہ فرض نماز کے بعد متصلاً فجر کی سنت ادا کرنا درست نہیں۔ أما إذا فاتت وحدھا فلا تقضی قبل طلوع الشمس بالإجماع لکراھة النفل بعد الصبح (شامی: 2/512ط زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند