• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 7442

    عنوان:

    ایک شخص رکوع کرتے وقت اپنی کمر پورے طور پر نہیں جھکاتا ہے صرف اپنا سر جھکالیتا ہے تو کیا اس کا رکوع ہوجائے گا؟ اور کیا اس کو اپنی نماز دہرانی پڑے گی؟ (۲) ایک شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن وہ قیام اوررکوع کھڑے ہوکر کرنے پر قادر ہے۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ کرکے اپنی پوری نمازپڑھتا ہی، کیا اس کی نماز درست ہوگی؟ کیوں کہ کچھ عالم کہتے ہیں کہ درست ہوجائے گی اورکچھ عالم کہتے ہیں کہ اس کو قیام اور رکوع کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے اور کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کرے۔ اگر وہ پوری نماز کرسی پر بیٹھ کر پڑھتا ہے،جیسا کہ کچھ علماء نے اجازت دی ہے اورکچھ نے نہیں دی ہے، تو کیا اس کو اپنی نماز دہرانی ہوگی؟

    سوال:

    ایک شخص رکوع کرتے وقت اپنی کمر پورے طور پر نہیں جھکاتا ہے صرف اپنا سر جھکالیتا ہے تو کیا اس کا رکوع ہوجائے گا؟ اور کیا اس کو اپنی نماز دہرانی پڑے گی؟ (۲) ایک شخص زمین پر سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن وہ قیام اوررکوع کھڑے ہوکر کرنے پر قادر ہے۔ وہ ایک کرسی پر بیٹھ کرکے اپنی پوری نمازپڑھتا ہی، کیا اس کی نماز درست ہوگی؟ کیوں کہ کچھ عالم کہتے ہیں کہ درست ہوجائے گی اورکچھ عالم کہتے ہیں کہ اس کو قیام اور رکوع کے لیے کھڑا ہونا ضروری ہے اور کرسی پر بیٹھ کر سجدہ کرے۔ اگر وہ پوری نماز کرسی پر بیٹھ کر پڑھتا ہے،جیسا کہ کچھ علماء نے اجازت دی ہے اورکچھ نے نہیں دی ہے، تو کیا اس کو اپنی نماز دہرانی ہوگی؟

    جواب نمبر: 7442

    بسم الله الرحمن الرحيم

    فتوی: 1695=1513/ب

     

    (۱) اگر قیام سے زیادہ قریب ہے تو اس کا رکوع نہ ہوگا ، اسے نماز کا اعادہ کرنا ہوگا۔

    (۲) جو شخص سجدہ کرنے پر قادر نہیں ہے وہ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھ سکتا ہے اس کے لیے تکبیر تحریمہ کے واسطے قیام شرط نہیں ہے۔ کرسی پر اس کی نماز صحیح ہے، دہرانے کی ضرورت نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند