• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 69931

    عنوان: تکبیر تحریمہ کیا ہے؟ کیا وہی تکبیر تحریمہ امام کی ہے، جو اللہ اکبر کہہ کر نیت باندھی جاتی ہے یا سبھی اللہ اکبر تکبیر تحریمہ ہے؟

    سوال: تکبیر تحریمہ کیا ہے؟ کیا وہی تکبیر تحریمہ امام کی ہے، جو اللہ اکبر کہہ کر نیت باندھی جاتی ہے یا سبھی اللہ اکبر تکبیر تحریمہ ہے؟ سجدے سے اٹھ کر اللہ اکبر کہا اور مقتدی بھول گیا تو کیا مقتدی کی نماز ہوگئی؟ اور اگر اکیلے نماز پڑھ رہے ہیں اور تکبیر قیام کی حالت میں نہیں کہی بلکہ رکوع میں یا رکوع کے نزدیک کہی تو کیا نماز ہوئی؟

    جواب نمبر: 69931

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1071-880/D=12/1437 (۱) نماز شروع کرتے وقت جواللہ اکبر کہہ کر نیت باندھی جاتی ہے وہ تکبیر تحریمہ ہے، اور وہ فرض ہے، اس کے علاوہ ایک رکن سے دوسرے رکن میں جاتے ہوئے جو تکبیر کہی جاتی ہیں، وہ تکبیرات انتقالیہ ہیں اور وہ مسنون ہیں۔ (۲) سجدے سے اٹھتے ہوئے اگر امام نے تکبیر کہہ لی اور مقتدی بھول گیا تو بھی مقتدی کی نماز ہو جائے گی۔ (۳) اکیلے نماز پڑھتے ہوئے کون سی تکبیر حالت قیام میں نہیں کہہ سکے ․․․ تکبیر تحریمہ یا تکبیر انتقالیہ؟ واضح کرکے دوبارہ سوال کریں۔ قال في الہدایة: وفرائض الصلاة ستة: التحریمة ․․․ والمراد تکبیرة الافتتاح (فتح ۱/۲۳۹) وقال في البدائع: فمنہا (من سنن الانتقال) أن یأتي بالذکر؛ لأن الانتقال فرض، فکان الذکر فیہ مسنوناً (بدائع ۱/۴۸۹) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند