• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 69015

    عنوان: اگر امام نیت باندھنے سے پہلے یہ بتا دیں کہ پہلی رکعت میں سجدہ ہے یا دوسری رکعت میں سجدہ ہے تو کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟

    سوال: تراویح میں جب قرآن پڑھتے ہیں تو بیچ میں سجدہ آتا ہے۔ اگر امام نیت باندھنے سے پہلے یہ بتا دیں کہ پہلی رکعت میں سجدہ ہے یا دوسری رکعت میں سجدہ ہے تو کیا یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟ جب کہ پیچھے نماز پڑھنے والے سبھی لوگ حافظ نہیں ہوسکتے۔ یا یہ مان لیا جائے ان نمازیوں میں کوئی نابینا بھی ہو سکتا ہے جو دیکھ نہیں سکتا۔

    جواب نمبر: 69015

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 10241045/N=10/1437 قیام کے بعداگر رکوع کیا جائے تو اس کی تکبیر مختصر ہوتی ہے اور اگر سجدہٴ تلاوت کیا جائے تو اس کی تکبیر لمبی ہوتی ہے، پس تمام مقتدیوں کو تکبیر سے اندازہ لگانا چاہے کہ کہ رکوع کی تکبیر ہے یا سجدہ تلاوت کی ، نماز تراویح میں تکبیر تحریمہ سے پہلے سجدہ تلاوت کے اعلان کی عادت ٹھیک نہیں ؛ کیوں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین وغیرہم سے اس طرح کے اعلان کا کوئی ثبوت نہیں، جب کہ اس دور میں بھی عرب وعجم میں کثیر تعداد میں ناخواندہ مسلمان اور نو مسلم پائے جاتے تھے ؛ اس لیے تراویح میں سجدہٴ تلاوت کا اعلان نہ کیا جائے، البتہ اگر کہیں مجمع بہت زیادہ ہو اور صفیں بہت دور تک ہوں ، اور مغالطہ کا قوی احتمال ہو تو ایسی صورت میں ضرورت کی بنا پر سجدہٴ تلاوت کے اعلان کی گنجائش ہوسکتی ہے اور اگر مائیک وغیرہ کا بہترین نظم ہونے کی وجہ سے مغالطہ کا احتمال برائے نام ہو تو اعلان نہ کیا جائے (تفصیل کے لیے فتاوی رحیمیہ جدید، احکام سجدہ تلاوت ۵: ۱۹۹، سوال: ۲۷۹، مطبوعہ: دار الاشاعت کراچی دیکھیں) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند