• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 67785

    عنوان: اگر دعاء قنوت نہیں پڑھی اور سلام پھیر دیا تو کیا نماز دہرانی ہوگی؟

    سوال: (۱) اگر دعاء قنوت نہیں پڑھی اور سلام پھیر دیا تو کیا نماز دہرانی ہوگی؟ (۲) لیکن اگر یہی صورت حال جماعت کے ساتھ پیش آئی تو کیا حکم ہوگا ؟ کیونکہ نماز امام کے پیچھے پڑھی ہے۔

    جواب نمبر: 67785

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1033-1057/N=10/1437

     (۱) : وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے پہلے دعائے قنوت واجب ہے، اگر سہواً نہیں پڑھی گئی تو سجدہ سہو واجب ہوگا، اور اگر سجدہ سہو نہیں کیا گیا تو نماز ناقص ہوگی ، وقت کے اندر اس کا اعادہ واجب ہوگا اور وقت کے بعد مستحب ، من الواجبات قراء ة قنوت الوتر وھو مطلق الدعا (الدر المختار مع رد المحتار ، کتاب الصلاة، باب صفة الصلاة، ۲: ۱۶۳، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔
     (۲) : اگر وتر کی نماز باجماعت میں امام نے دعائے قنوت نہیں پڑھی، رکوع میں چلا گیا تو اس کا حکم وہی ہوگا جو اوپر نمبر ایک میں ذکر کیا گیا، اور اگر امام نے تو دعائے قنوت پڑھی، لیکن مقتدی نے سہوا دعائے قنوت نہیں پڑھی، امام کے ساتھ صرف خاموش کھڑا رہا تو ایسی صورت میں مقتدی یا امام کسی کو سجدہ کی ضرورت نہیں، کیوں کہ امام کے پیچھے مقتدی کے سہو سے امام یا مقتدی کسی پر سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، لا بسہوہ- أي: بسہو المقتدي- أصلا․ (الدر المخختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود الہو ۲: ۵۴۶، ط: مکتبہ زکریا دیوبند)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند