• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 67650

    عنوان: اگر مسجد میں آدمی نماز یا قرآن پڑھ رہا ہو تو سلام كرنا چاہیے یا نہیں؟

    سوال: اگر مسجد میں آدمی نماز یا قرآن پڑھ رہا ہو تو سلام كرنا چاہیے یا نہیں؟

    جواب نمبر: 67650

    بسم الله الرحمن الرحيم

    1085-1113/N=10/1437 اگر مسجد میں لوگ نماز، تلاوت قرآن پاک اور ذکر واذکار وغیرہ میں مشغول ہوں، کوئی شخص خالی بیٹھا نہ ہو تو آہستہ ٓاواز میں اس طرح سلام کیا جائے: السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین۔ اور اگر مسجد میں کوئی شخص خالی بیٹھا ہو، نماز وغیرہ میں مشغول نہ ہو تو اگرچہ دوسرے لوگ نماز وغیرہ میں مشغول ہوں تب بھی اس خالی بیٹھے ہوئے شخص کو سلام کرسکتے ہیں، البتہ آہستہ آواز میں سلام کیا جائے، زور سے نہیں تاکہ نماز وغیرہ میں مشغول لوگوں کی نماز وغیرہ میں کوئی خلل واقع نہ ہو، اور اگر کوئی شخص ایسی صورت میں مسجد میں داخل ہوتے وقت سلام نہ کرے تو یہ خلاف سنت نہیں، قال فی الدر (مع الرد، کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ ۹: ۵۹۶، ۵۹۷ ط مکتبة زکریا دیوبند) : ولو دخل ولم یر أحداًیقول: السلام علینا وعلی عباد اللہ الصالحین اھ، وفی الرد: قولہ: ”وعلی عباد اللہ الصالحین“ فیکون مسلماً علی الملائکة الذین معہ وصالحی الجن الحاضرین وغیرھم اھ وفی الرد ص ۵۹۲ منہ عن فصول العلامي : وإن دخل مسجداً وبعض القوم فی الصلاة وبعضھم لم یکونوا فیھا یسلم، وإن لم یسلم لم یکن تارکاً للسنة اھ، وقال فی الفتاوی السراجیة (کتاب الکراھیة والاستحسان، باب التسلیم، ص ۳۱۸ ط مکتبة الاتحاد دیوبند) : إذا دخل المسجد وبعضھم في غیر الصلاة یسلم قالہ السید الإمام أبو القاسم- رحمہ اللہ تعالی-: ولو ترک السلام لا یکون تارکاً للسنة ، أشار إلیہ في أدب القاضي اھ، وفی الرد (کتاب الصلاة، باب ما یفسد الصلاة وما یکرہ فیھا، مطلب: المواضع التي یکرہ فیھا السلام ۲: ۳۷۳) : والظاھر أنہ أعم، فیکرہ السلام علی مشتغل بذکر اللہ تعالی بأي وجہ کان اھ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند