• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 67554

    عنوان: نماز پڑھنے کے لیے ڈیوٹی چھوڑکر جانا

    سوال: میں سرکاری اسکول میں ملازم ہوں اور ڈیوٹی کے وقت میں ظہر کی نماز قریبی مسجد میں ہوتی ہے، نماز کے وقت میں دیوٹی چھوڑ کر چلا جاتا ہوں چاہے میں کلاس ہی کیوں نہ لے رہا ہوں، کیا میں صحیح کرتا ہوں؟ ہڈماسٹر صاحب کہتے ہیں تم مسجد میں نہ جایا کرو او راسکول میں جماعت کرایا کرو جب کہ مسجد بہت قریب ہے، کچھ ساتھی اساتذہ یہ بھی کہتے ہیں کہ بچوں کو سبق پڑھانا بڑا فرض ہے، تم ڈیوٹی کے بعد نماز پڑھا کرو اور بعد میں کسی مسجد میں نماز نہیں ہوتی؟

    جواب نمبر: 67554

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1036-1061/N=10/1437 ملازم شریعت کی اصطلاح میں اجیر خاص ہوتا ہے اور اجیر خاص اوقات ملازمت میں فرض نماز اور سنن موٴکدہ پڑھ سکتا ہے، مسلمان ملازم کے لیے فرض نماز اورسنن موٴکدہ کے بقدر وقت اوقات ملازمت سے مستثنی ہوتا ہے، جیسے عام ملازمین کے حق میں طبعی ضرورت (: استنجا وغیرہ) کا وقت مستثنی ہوتا ہے، اور نماز با جماعت مسجد میں ادا کرنا چاہئے، بلا عذر شرعی مسجد کی جماعت ترک نہیں کرنی چاہئے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں آپ کا عمل بلا شبہ صحیح ودرست ہے، ہیڈ ماسٹر اور ساتھی اساتذہ کی بات صحیح نہیں،البتہ آپ فرض نماز اور سنن موٴکدہ کے ساتھ نوافل نہ پڑھیں، نیزسنن موٴکدہ میں مسنون قراء ت پر اکتفا کریں، لمبی قراء ت وغیرہ نہ کریں اور جلد از جلد نماز سے فارغ ہوکر اسکول آجائیں، قال في رد المحتار (کتاب الإجارة، باب ضمان الأجیر ۹: ۹۴-۹۶ ط مکتبة زکریا دیوبند):قولہ:(ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ) بل ولا أن یصلي النافلة، قال فی التاترخانیة: وفی فتاوی الفضلي: وإذا استأجر رجلاً یوماً یعمل کذا فعلیہ أن یعمل ذلک العمل إلی تمام المدة ولا یشتغل بشییٴ آخر سوی المکتوبة، وفي فتاوی سمرقند: وقد قال بعض مشایخنا: لہ أن یوٴدي السنة أیضاً، واتفقوا أنہ لا یوٴدي نفلاً، وعلیہ الفتوی الخ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند