• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 67253

    عنوان: اگر مسافر شخص کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرلے تو كیا وہ مقیم ہوجاتا ہے ؟

    سوال: میں ایک آرگنائزیشن میں کام کررہاہوں جو ہمارے گھر سے ۹۰ کلو میٹر دور ہے، میں ہر ہفتہ پیر کو جاتاہوں اور سنیچر کو گھر واپس آتاہوں ۔ اب میں نے ایک مرتبہ ملازمت کی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہر گیا تھا تو اب جب میں ایک ہفتہ کے لیے گھر جاتاہوں تو کیا میں پوری نماز پڑھوں یا نہیں؟ کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص ایک جگہ پندرہ دن سے زیادہ رہے تو وہ جگہ اس کے لیے وطن اقامت ہوجاتی ہے؟کیا یہ بات درست ہے؟

    جواب نمبر: 67253

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 1193-1219/N=11/1437 یہ بات صحیح ہے کہ اگر مسافر شخص کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کرلے تو وہ مقیم ہوجاتا ہے اور وہ جگہ اس کے لیے وطن اقامت ہوجاتی ہے، لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں؛ اگر یہ شخص وطن اصلی چلا جائے یا وہاں سے سفر شرعی کی مسافت پرجائے اگر چہ سازو سامان کے بغیر جائے تو وطن اقامت باطل ہوجاتا ہے، راجح اور مفتی بہ قول یہی ہے؛ اس لیے صورت مسئولہ میں جب آپ نے اپنی جائے ملازمت میں ایک مرتبہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کی نیت کی تو اس مرتبہ ہی وہ وطن اقامت ہوا اور جب آپ وہاں سے اپنے وطن اصلی آئے یا مسافت شرعی کا سفر کیا تو وہ وطن اقامت نہیں رہا، پس آپ اب جب بھی جائے ملازمت پہنچ کر وہاں پندرہ دن سے کم قیام کی نیت کریں گے تو آپ وہاں مسافر ہی رہیں گے، مقیم نہ ہوں گے، ویبطل وطن الإقامة بمثلہ وبالوطن الأصلي وبإنشاء السفر، والأصل أن الشیء یبطل بمثلہ وبما فوقہ لا بما دونہ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر ۲: ۶۱۴، ۶۱۵، ط: مکتبة زکریا دیوبند) ۔ نوٹ: سفر شرعی کی مسافت میں آبادی کا حصہ شمار نہیں ہوتا؛ اس لیے اپنے وطن سے جائے ملازمت کے سفر میں اور جائے ملازمت میں پندرہ دن سے کم قیام میں آپ مسافر اس وقت ہوں گی جب آپ کے شہر کی آخری آبادی اور جائے ملازمت کی ابتدائی آبادی دونوں کے درمیان سفر شرعی کی مسافت یعنی: سوا ستتر کلو میٹر کی دوری پائی جاتی ہو ورنہ آپ مسافر نہ ہوں گے، من خرج من عمارة موضع إقامتہ الخ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ۲: ۵۹۹) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند