• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 65877

    عنوان: سعودی عرب میں تھوڑی سی بارش ہوجانے کے بعد مغر ب و عشاء کی دو نمازیں ایک ساتھ پڑھ لی جاتی ہیں

    سوال: سوال یہ ہے کہ سعودی عرب میں تھوڑی سی بارش ہوجانے کے بعد مغر ب و عشاء کی دو نمازیں ایک ساتھ پڑھ لی جاتی ہیں، یہاں تک کہ سعودی عرب کے مفتی اعظم بھی پڑھ لیتے ہیں ، یہ کہاں جائز ہے یا یہ حرام ہے؟وضاحت فرمائیں۔

    جواب نمبر: 65877

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 847-812/SN=9/1437 قرآن و حدیث کی روشنی میں امامِ اعظم ابوحنیفہ  نے جو مسئلہ مستنبط کیا ہے وہ یہ کہ ہر نماز کو اس کے وقت میں پڑھنا فرض ہے، بارش ہو یا کوئی اورعذر ، ایک ساتھ دو وقتوں کی نماز ادا کرنا ( خواہ جمع تقدیم کے طور پر ہو یا تاخیر کے طور پر) جائز نہیں ہے، ایسی صورت میں جو نماز وقت سے پہلے پڑھی گئی وہ صحیح نہیں ہوگی؛ البتہ بعض دیگر ائمہ کے نزدیک بارش وغیرہ کی وجہ سے جمع بین الصلاتین جائز ہے، سعودی عرب میں جو لوگ ایسا کرتے ہیں غالباً ان کا مسلک دوسراہے۔ بہرحال حنفی مقتدی کو قبل از وقت پڑھی جانے والی نماز کی جماعت میں شرکت نہ کرنی چاہئے، اس سے اس کی نماز ادا نہ ہوگی، وقت آنے پر اسے دوبارہ پڑھنا فرض ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں : چند اہم عصری مسائل (۱/۱۴۰) ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند