• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 64996

    عنوان: مسجد کی جماعت ترک کرکے مدرسہ کے کمرے میں نماز پڑھنا؟

    سوال: ہمارے شہر اسلامپور میں ایک مدرسہ ہے جس سے لگ کر پڑوس میں ہی محلہ کی مسجد ہے بالکل قریب یعنی مدرسہ اور مسجد کی دیوار ایک ہی سمجھو۔ مدرسہ کی ابھی تک کوئی مستقل مسجد نہیں ہے ۔ اب 80 طلبہ اور چار اساتذہ ہیں انکی تعلیم و تربیت و پڑھائی کے اوقات کے پیشِ نظر انکی پانچوں نمازیں مدرسہ ہی کے ایک بڑے روم میں ادا کی جاتی ہیں اور صرف جمعہ کو مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں پوچھنا یہ ہے کہ مسجد کے بجائے مدرسہ میں نمازیں ادا کرنا یہ صحیح ہے یا نہیں۔ ایک دیوبند کے مفتی صاحب آئے تھے انہوں نے بھی اس بارے میں تحقیق کے بارے میں کہا تھا۔ دوسری صورت یہ کہ مسجد کے بالا خانہ پر مسجد کی اصل جماعت سے 10 منٹ پہلے یا بعد میں اگر طلبہ و اساتذہ نماز ادا کر لے تو انکی نماز صحیح ہوگی؟ یا پھر اصل مسجد کی جماعت کے ساتھ ہی نماز ادا کرنی ہوگی؟

    جواب نمبر: 64996

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 592-478/D=8/1437 بالغ طلبہ اور اساتذہ کا مسجد کی جماعت ترک کرکے مدرسہ کے کمرہ میں نماز ادا کرنا بڑے ثواب سے محرومی کی بات ہے، اس پر مداومت کرنا درست نہیں، بالغ اور سمجھ دار بچوں کو مسجد میں ہی نماز پڑھنا چاہیے۔ مسجد کی بالائی منزل میں طلبہ کی جماعت علیحدہ کرنا یہ مکروہ ہے، علیحدہ جماعت کرنی ہو تو مسجد سے الگ مدرسہ میں ہی کریں، لیکن اس کا بھی غیر انسب ہونا اوپر مذکور ہوچکا۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند