• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 64732

    عنوان: ہاتھوں کو اٹھائے بغیر اذان دے سکتاہے؟

    سوال: (۱) اذان دیتے وقت موٴذن کو اپنے کانوں تک اپنے ہاتھوں کو اٹھانا چاہئے؟یا وہ ہاتھوں کو اٹھائے بغیر اذان دے سکتاہے؟ (۲) کیا اقامت کہتے وقت ہمیں قد قامت الصلاة کے ساتھ ہر لفظ کو دوبار کہنا چاہئے یا ایک ہی بار کہنا چاہئے؟ (۳) اگر جماعت کھڑی ہوجائے اور اقامہ اس طرح کہی جائے کہ؛اللہ اکبر․․․․ ایک مرتبہ، اشد ان لا الہ ․․․ ایک مرتبہ، اشہد ان محمد رسول اللہ ․․․․ایک مرتبہ، حی علی الصلاة ․․․ ایک مرتبہ، حی علی الفلاح․․․․ ایک مرتبہ، قد قامت الصلاة ․․․ دو مرتبہ، اللہ اکبر ․․․ ایک مرتبہ ․․․․ لا الہ ․․ایک مرتبہ ، تو کیا اس طرح اقامت کہنا درست ہے؟

    جواب نمبر: 64732

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 744-796/Sd=9/1437

     

    (۱) اذان دیتے وقت موٴذن کا دونوں ہاتھ کانوں تک اٹھاکر، دونوں کانوں میں انگلی ڈالنا مستحب ہے، لازم نہیں ہے، اس کے بغیر بھی اذان صحیح ہوجاتی ہے۔ أخرج ابن ماجة عن طریق عمار بن سعد أن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أمر بلالاً أن یجعل إصبعیہ في أذنیہ، وقال: إنہ أرفع لصوتک۔ (سنن ابن ماجة، أبواب الأذان والسنة فیہا / باب السنة في الأذان ۱/۵۲رقم: ۷۱۰دار الفکر بیروت) والأفضل للمؤذن أن یجعل إصبعیہ في أذنیہ، وإن ترک ذٰلک لم یضرہ۔ (الفتاویٰ التاتارخانیة ۲/۱۴۱رقم: ۱۹۷۱زکریا) ویستحب أن یجعل إصبعیہ في أذنیہ، لقولہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لبلال رضي اللّٰہ عنہ: ”إجعل إصبعیک في أذنیک فإنہ أرفع صوتک“۔ (مراقي الفلاح ۱۹۷، حلبي کبیر ۳۷۵، مبسوط ۱/۱۳۰، الفتاویٰ الہندیة ۱/۵۶) (۲، ۳) اقامت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ چار مرتبہ شروع میں تکبیر کہی جائے، پھر قد قامت الصلاة کے ساتھ دو دو مرتبہ باقی کلمات اور آخر میں ایک مرتبہ لا الہ الا اللّٰہ۔ یعنی: مجموعی طور پر سترہ کلمات کہے جائیں گے، سوال میں مذکورا قامت کا طریقہ احناف کے نزدیک مسنون نہیں ہے۔ عن عبد اللّٰہ بن زید قال: کان أذان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم شفعاً شفعا في الأذان والاقامة۔ (الترمذي، باب ماجاء في أن الاقامة مثنی مثنی) عن أبي محذورة رضي اللّٰہ عنہ قال: علمني رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الاقامة سبع عشرة کلمة۔ (طحاوي، کتاب الصلاة، باب الاقامة کیف ہي؟)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند