• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 642

    عنوان:

    اگر امام کوئی ایسی آیت پڑھے جس میں جنت کا ذکر ہو تو کیا زبان ہلائے بغیر دل ہی دل میں جنت کو حاصل کرنے کی دعا کرسکتے ہیں؟  اور اسی طرح اگر دوزخ کی آیت ہو تو امام کے پیچھے دوزخ سے پناہ مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟  اور اگر اکیلے نماز پڑھ رہے ہوں تب کیا حکم ہے؟

    سوال:

    اگر امام کوئی ایسی آیت پڑھے جس میں جنت کا ذکر ہو تو کیا زبان ہلائے بغیر دل ہی دل میں جنت کو حاصل کرنے کی دعا کرسکتے ہیں؟

     اور اسی طرح اگر دوزخ کی آیت ہو تو امام کے پیچھے دوزخ سے پناہ مانگ سکتے ہیں یا نہیں؟

    اور اگر اکیلے نماز پڑھ رہے ہوں تب کیا حکم ہے؟

    جزاک اللہ!

    والسلام

    جواب نمبر: 642

    بسم الله الرحمن الرحيم

    (فتوى: 301/م=295/م)

     

    فرائض میں یا جماعت کی نماز میں آیت ترغیب پر جنت وثواب کو طلب کرنا اور آیت ترہیب پر دوزخ اور اللہ کے عذاب سے پناہ چاہنا، ثابت نہیں، امام ومقتدی دونوں کے لیے یکساں حکم ہے، البتہ نوافل میں گنجائش ہے جب کہ تنہا پڑھ رہا ہو، قال في الدر المختار: بل یستمع وینصت وإن قرأ الإمام آیة ترغیب أو تر ھیب أي في ثوابہ تعالی، أو ترھیب أي تخویف من عقابہ تعالی، فلا یسأل الأول ولا یستعیذ من الثاني قال في الفتح: لأن اللّہ تعالی وعدہ بالرحمة إذا استمع، ووعدہ حتم، وإجابة دعاء المتشاغل عنہ غیر مجزوم، و ماورد حمل علی النفل منفرداً (درمختار مع الشامی:2/266)


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند