• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 62300

    عنوان: سنت نماز میں کسی کا شریک ہوجانا اور غلط رخ پر ادا کی ہوئی نمازیں

    سوال: میں ظہر کی فرض پڑھ چکا تھا اور سنت پڑھ رہا تھا ، کہ ایک شخص آیا اور میرے ساتھ ملکر نماز پڑھنے لگا، شاید وہ سمجھا کہ میں فرض پڑھ رہا ہوں ۔ (۱) اب اس حالت میں کیا کرنا چاہیے ؟ (۲) کوئی اشارہ کرنا مثلاً سبحان اللہ ... یا دو قدم آگے چلے جانا ...یا تھوڑا سا اپنی جگہ سے حل جانا ... یا پھر ہاتھ سے اس شخص کو تھوڑا سا دور کرنا (۳) آیا اس طرح کا کوئی بھی اشارہ یا حرکت کرنی جائز ہوتو، کیا وہ چاروں مذاھب والے اسکو سمجھتے بھی ہوں ... کیوں کے یہ صرف غیر حنفی لوگ کرتے ہیں (۴) میرے چند دنوں کی نمازوں میں قبلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں غلط طرف رخ کرکے پڑھ لی تھیں ، بعد میں وہ طرف غلط نکلا ...تو کیا میں ساری لوٹادوں ؟

    جواب نمبر: 62300

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 74-51/N=2/1437-U (۱- ۳): حضرات احناف کے نزدیک نفل یا سنت پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی، جب کہ بعض ائمہ کرام  کے یہاں ہوجاتی ہے؛ لہٰذاصورت مسئولہ میں آپ کو درمیان نماز اشارہ وغیرہ کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ نماز سے فارغ ہوکر اقتدا کرنے والے کو بتادیں کہ میں سنت پڑھ رہا تھا، فرض میں پہلے پڑھ چکا، تاکہ اگر اسے کوئی غلط فہمی ہوئی ہو اور وہ حنفی ہے یا وہ جس امام کی تقلید کرتا ہے، ان کے نزدیک سنت پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی تو وہ اپنی نماز دہرالے، اور اگر وہ کسی ایسے امام کا مقلد ہے جن کے یہاں سنت پڑھنے والے کے پیچھے بھی فرض پڑھنے والے کی نماز ہوجاتی ہے تو آپ کو اس سے الجھنے کی ضرورت نہیں، قال فی الدر (مع الرد، کتاب الصلاة، باب الإمامة ۲: ۳۲۴، ۳۲۵ ط: مکتبة زکریا دیوبند): ولا مفترض بمتنفل وبمفترض فرض آخر؛ لأن اتحاد الصلاتین شرط عندنا، وصح أن معاذاً کان یصلي مع النبي صلی اللہ علیہ وسلم نفلاً وبقومہ فرضاً اھ وانظر الرد أیضاً۔ (۲): اگر آپ کو جہت قبلہ معلوم نہیں تھی اور وہاں کوئی بتانے والا بھی نہیں تھا یا جہت قبلہ جاننے کی کوئی شکل نہیں تھی اور آپ نے جہت قبلہ کی تحری کرکے نمازیں پڑھیں اور نماز کے دوران غلطی کا علم نہیں ہوا تو آپ کی وہ نمازیں ادا ہوگئیں اگرچہ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ نمازیں غلط رخ پر پڑھی گئیں۔ اور اگر آپ نے وہ نمازیں تحری کے بغیر پڑھیں یا کوئی بتانے والا تھا پھر بھی معلوم کیے بغیر پڑھیں تو آپ وہ نمازیں دوبارہ پڑھیں قال فی التنویر (مع الدر والرد، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة ۲: ۱۱۵-۱۱۹): ویتحری عاجز عن معرفة القبلة فإن ظھر خطوٴہ لم یعد، …… وإن شرع بلا تحر لم یجز وإن أصاب اھ۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند