• عبادات >> صلاة (نماز)

    سوال نمبر: 62041

    عنوان: میرے گرام میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی ،اس کے برابر میں گرام سبھا کا راستہ جو کہ قریب چالیس فٹ تھا مسجد کے انتظامیہ نے بنا کسی اجازت کے بنا گرام سبھا کے پرستاؤ کے اس راستے میں سے قریب تیس فٹ راستہ مسجد میں ملا کر اسی جگہ پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد تعمیر کردی ہے، کیا اس راستے کی زمین کو جسے مسجد میں ملا لی ہے ،جائز ہے؟ کیا اس پر نماز باجماعت ہوسکتی ہے ؟ کیا اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے؟

    سوال: (۱) میرے گرام میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی ،اس کے برابر میں گرام سبھا کا راستہ جو کہ قریب چالیس فٹ تھا مسجد کے انتظامیہ نے بنا کسی اجازت کے بنا گرام سبھا کے پرستاؤ کے اس راستے میں سے قریب تیس فٹ راستہ مسجد میں ملا کر اسی جگہ پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد تعمیر کردی ہے، کیا اس راستے کی زمین کو جسے مسجد میں ملا لی ہے ،جائز ہے؟ کیا اس پر نماز باجماعت ہوسکتی ہے ؟ کیا اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے؟ (۲) اسی مسجد کی انتظامیہ نے باقی بچے آٹھ فٹ راستے پر مسجد سے ملی ہوئی نالی پر مسجد کے اندر احاطے میں تین پیشاب گھر ، دو غسل خانے ، دو بیت الخلاء ہونے کے بعد بھی مقتدیوں کے اختلاف کے بعد بھی مسجد سے باہر پیشاب گھر بنادیا ہے جس سے راستے میں آنے جانے والوں کو پریشانی ہوتی ہے ، وہیں سے ایک مدرسہ کا راستہ بھی جاتاہے جانے والے لوگ مسجد والوں کو برا کہتے ہیں، کیا اس کا بنا نا جائز ہے؟ کیا مسجد راستے کو تنگ کرنا کہتی ہے ؟کیا اندر جگہ ہونے کے بعد بھی اور اندر پیشاب گھر ہونے کے بعد بھی باہر پیشاب گھر بنا کربدبو پھیلانا کیسا ہے؟

    جواب نمبر: 62041

    بسم الله الرحمن الرحيم

    Fatwa ID: 116-134/L=2/1437-U (۱) (۲) گرام سبھا کی زمین کو بغیر اجازت مسجد میں شامل کرنا درست نہیں، مسجد والوں نے یہ غلط کیا کہ بلا اجازت گرام سماج کی زمین مسجد میں شامل کرلی تا ہم اس جگہ نماز درست ہوگی اسی طرح راستے کو تنگ کرنا یا بدبو پھیلانا جس سے آنے جانے والوں کو تکلیف ہو، اسلام میں جائز نہیں۔


    واللہ تعالیٰ اعلم


    دارالافتاء،
    دارالعلوم دیوبند